.

عراق، ایران اسلحہ ڈیل، امریکی انخلاء کا نتیجہ ہے، جان مکین

امریکی سینیٹر عراق کیلیے اپاچی ہیلی کاپٹر منصوبہ روکنے کا حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹر جان مکین نے عراق کے ساتھ 24 اپاچی ہیلی کاپٹرز کے معاہدے پر نظر ثانی کیلیے کہا ہے۔ جان مکین کا یہ مطالبہ عراق اور ایران کے درمیان 195 ملین ڈالر مالیت کے اسلحہ معاہدے کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سینیٹر جان مکین سے جب پوچھا گیا کہ کیا عراق کو اسلحہ کی فروخت بوئنگ کمپنی کے منصوبہ کو متاثر کر سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا ''اپاچی ہیلی کاپٹروں کی فروخت کا معاملہ میز پر ہے، ہم اسے زیر بحث لا چکے ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا '' ہم اس اسلحہ ڈیل کو شاخ در شاخ کی حد تک سمجھ چکے ہیں اس لیے ہمیں اسے بہت احتیاط سے دیکھنا ہوگا۔''

ایک اور سوال کے جواب میں جان مکین نے کہا '' میرے علم میں نہیں ہے کہ ارکان کانگریس نے عراق کو ہیلی کاپٹر دینے کے معاہدے کو روکنے کی کوشش شروع کی ہے یا نہیں'' واضح رہے امریکی قانون کے مطابق قانون ساز ایسے معاہدوں کو متعین مدت کے اندر رکوا سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی ارکان کانگریس کا کہنا ہے عراق اور ایران کے درمیان اسلحہ ڈیل پریشان کرنے والی ہے تاہم انہیں ابھی مزید اطلاعات درکار ہیں۔ ابھی کانگریس کو باضابطہ طور پر ایسی کسی ڈیل سے آگاہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے جان مکین سینیٹ کی خارجہ امور اور عسکری خدمات کی کمیٹی کے رکن ہونے کے ناطے صدر اوباما کی خارجہ امور سے متعلق پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''عراق اور ایران کے درمیان ڈیل سے ان کے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ امریکا نے عراق سے واپسی زیادہ تیزی کی ہے، یہ ہمارے عراق سے انخلاء کا نتیجہ ہے۔''

عراق اور ایران کے درمیان اسلحہ ڈیل دستاویزات کے مطابق نومبر میں ہوئی ہے، یہ وہی دورانیہ ہے جب امریکا سمیت چھ بڑی طاقتیں ایران کے ساتھ ابتدائی جوہری معاہدے پر دستخط کر رہا تھا۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے اس صورت حال پر کہا ہے امریکا نے عراق ایران ڈیل پر عراق کے ساتھ اعلی ترین سطح پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تاہم عراق نے ایسے کسی معاہدے پر دسخط کیے جانے کی تردید کی ہے۔