.

اسرائیل فلسطینیوں کیخلاف جنگی جرائم میں ملوث ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

امریکا، یورپی یونین اور عالمی برادری اسرائیل کو اسلحہ دینا بند کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے پچھلے تین برسوں کے دوران درجنوں عام فلسطینیوں کو قتل کر کے انسانی زندگیوں کے بارے میں سخت بے حسی اور بے دردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس امر کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کے روز جاری کردہ رپورٹ میں کیا ہے۔

اس رپورٹ کے جواب میں اسرائیل نے کہا ہے کہ لندن میں قائم انسانی حقوق گروپ نے اسرائیلی فوج پر حملوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ دوسری جانب ایمنسٹی نے اس رپورٹ کو '' ٹریگر ہیپی '' کا نام دیا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق '' اسرائیل کی طرف سے بڑھے ہوئے فوجی استعمال کا ہدف مغربی کنارا رہا، جہاں اسرائیلی فوج نے عام فلسطینی شہریوں کو اپنے غضب کا نشانہ بنایا، یہ ایک خوفناک انداز ہے جس غیر قانونی طور پر لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔ ''

رپورٹ میں اسرائیل کو فلسطینیوں کو جنگی جرائم کا نشانہ بنانے والا اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے والا ملک بتایا گیا ہے۔ واضح رہے مغربی کنارے پر 1967 سے اسرائیلی قبضہ ہے اور تب سے اسرائیلی فوج اس علاقے میں مظالم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ایمنسٹی نے اسرائیل حکام کو اب تک ان مظالم کی آزادانہ اور عالمی معیار کے مطابق تحقیقات کرانے میں ناکام ثابت کیا ہے۔ اس لیے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ '' ان واقعات کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام فلسطینیوں اور ان کے ورثا کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہو سکے۔''

ایمنسٹی نے امریکہ ، یورپی یونین، پوری بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسرائیل کیلیے اسلحہ، بارود اور ہر قسم کے آلات کی ترسیل روک دی جائے۔