.

ایران کیخلاف جنگ سے پہلے مذاکرات کرنا ذمہ داری ہے: کیری

جنگ ویتنام کا سبق ہے کہ پہلے متبادل راستے دیکھے جائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کیخلاف کسی جنگ کا سوچنے سے پہلے ایران کے ساتھ جوہری ایشوز پر مذاکرات کو ذمہ داری قرار دیا ہے۔ جان کیری نے اس امر کا اظہار رپورٹرز کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

جان کیری کے مطابق '' ہم نے ایرانی جوہری تنازعے کے حل کیلیے پہل کی ہے اور چھ بڑی طاقتوں کی ایران کے ساتھ مذاکرات میں قیادت کی ہے تاکہ کسی جنگ میں جانے سے پہلے ہم ان امور کی نشاندہی کر سکیں جو تنازعے کا باعث ہیں، ہم در حقیقت مسئلے کے پر امن حل کیلیے گئے ہیں۔

واضح رہے انہی کوششوں کے نتیجے میں 24 نومبر کو ایران کا امریکا سمیت چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ابتدائی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے بعد ایران کو بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل ہوئی، تاہم امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے سے نمٹنے کیلیے تمام آپشنز کھلی ہیں۔

اب جان کیری کے ریمارکس یہ اشارہ کرتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جوہری تنازعے کا حل نہ نکل سکا تو امریکا ایران کے خلاف جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جو نوجوانی میں بحریہ کے افسر کے طور پر ویتنام کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں نے مزید کہا '' یہ قیادت کی ذمہ داری ہے اور ہم نے ویتنام کی جنگ سے سیکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو دوسرے ملک میں جنگ کیلیے بھیجنے سے پہلے بہتر متبادلات پر سوچا جائے ۔''

انہوں نے مزید کہا '' یہ ایک ذمہ داری ہے کہ ہم قیادت کے طور پر پر ان تمام آپشنز کو بروئے کار لائیں جو جنگ کے بغیر مسائل کے حل کیلیے ضروری ہوں اور لوگوں کو زندگی دے سکیں اور یہی ہم ایران کے حوالے سے کر رہے ہیں۔''

جان کیری نے یہ ریمارکس ایسے موقع پر دیے ہیں جب اوباما انتظامیہ پر قانون سازوں کی طرف سے ایران پر مزید پابندیاں عاید کرنے کیلی سخت دباو ہے۔ امریکی قانون ساز سمجھتے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی کرنے سے ایران ناجائز فائدہ اٹھا ئے گا اور جوہری طاقت بن جائے گا۔ اس لیے ابتدائی معاہدے پر عمل کیلیے ایران پر مزید پابندیوں کی صورت میں دباو بڑھانا چاہیے۔