شامی اپوزیشن کے مذاکرات کاروں کے رشتہ دار رہا کیے جائیں

شامی رجیم سے امریکا کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے شامی حکومت پر جنیوا ٹو کے تحت ہونے والے مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے مذاکراتی وفد میں شامل ارکان کے رشتہ دار گرفتار کرکے نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے یہ بات شام کے بارے میں غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

امریکی ترجان نے اس موقع پر ان زیر حراست لیے گئے افراد کو غیر مشروط رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ شامی اپوزیشن کے وفد کو آزادانہ اور بحفاظت سیاسی عمل کی بحالی کیلیے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

واضح رہے رواں ماہ کے دوران معطل ہونے والے جنیوا ٹو کے بعد شامی مسئلے کے حل کیلیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ اس صورتحال میں مختلف ممالک کے سفراء مذاکرات کو دوباہ ٹریک پر لانے کیلیے سرگرم ہیں جبکہ امریکا کا الزام ہے کہ بشار رجیم بھاری اسلحے اور بارود سے شامی اپوزیشن کے وفد کو دباو میں لانے کی کوشش میں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جنیوا ٹو کے تعطل کے بعد روس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کیلیے اگلے ہفتے کے دوران ماسکو کے دورے پر جا رہے ہیں۔ مذاکرات میں حالیہ تعطل کے بعد دونوں اعلی سفارت کاروں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہو گی۔

جان کیری روس کی طرف سے شام کو اسلحے کی فراہمی پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ '' سچی بات تو یہ ہے کہ روس بشارالاسد رجیم کو امداد فراہم کرنے میں اضافہ کر رہا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا '' میں نہیں سمجھتا کہ بشارالاسد کا ذہن تبدیل کرنے کیلیے تعمیری کوشش کی جا رہی ہے۔''

جان کیری نے کہا بشارالاسد جو کچھ کر رہا ہے یہ انتقامی، ناقبل فہم، ناقابل قبول اور توہین آمیز ہے۔'' یاد رہے کہ امریکا اور روس کے اعلی سفارت کاروں کے درمیان نظر آنے والی پیش رفت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے پچھلے سال آئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں