.

نیٹو کا روس کو کریمیا میں کشیدگی پر انتباہ

نامعلوم مسلح افراد کا جزیرہ نما کریمیا کی پارلیمان اور سرکاری عمارات پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے فوگ راسموسین نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ کریمیا کے حوالے سے کسی اقدام سے گریز کرے تاکہ یوکرینی بحران سے متعلق کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

انھوں نے جمعرات کو ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ''مجھے کریمیا میں رونما ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔میں روس پر زوردوں گا کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہو اور غلط فہمیاں جنم لی سکتی ہوں''۔

راسموسین نے یہ بیان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا میں نامعلوم مسلح افراد کے پارلیمنٹ اور سرکاری عمارات پر قبضے کے بعد جاری کیا ہے۔ان افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ روس نواز ہیں۔

اس سے پہلے یوکرین کی عبوری حکومت نے دارالحکومت کیف میں متعین ماسکو کے نمائندے کو طلب کر کے اسے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی علاقائی خودمختاری،آزادی اور سالمیت کا احترام کرے۔

راسموسین نے برسلز میں نیٹو کے یوکرین کمیشن کے اجلاس میں کریمیا میں مسلح افراد کے پارلیمان کی عمارت پر قبضے کو خطرناک اور غیر ذمے دارانہ پیش رفت قراردیا ہے۔انھوں نے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ کشیدگی سے گریز کریں۔انھوں نے کیف کے حکام سے بھی کہا ہے کہ وہ تمام سیاسی گروہوں کی شمولیت سے سیاسی عمل شروع کریں۔

یوکرینی وزیرداخلہ آرسن اواکوف نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ جزیرہ نما کریمیا کے علاقائی دارالحکومت سیمفرپول میں پچاس ساٹھ مسلح افراد جمعرات کو علی الصباح پارلمینٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہ لوگ فوجی وردی میں ملبوس تھے لیکن ان کی وردی میں کوئی نشان نہیں تھا۔

انھوں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے کے بعد چیرمین کے کمرے میں موجود سیکریٹری اور پولیس اہلکاروں کو باہر نکال دیا اور پارلمینٹ کے اہلکاروں کو چھٹی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کریمیا میں مسلح افراد کی اس کارروائی کے بعد یوکرینی پولیس اور وزارت داخلہ کے تحت دستوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔کریمیا حکومت کی عمارت کے قریب پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جو عمارت میں لوگوں کا داخلہ روکے ہوئے ہیں۔

کریمیا کے وزیراعظم اناتولی محلیوف کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں سے مسلح قریباً پچاس افراد رات کے وقت سرکاری عمارتوں میں داخل ہوگئے تھے اور انھوں نے ان عمارتوں پر روس کا پرچم لہرا دیا۔انھوں نے سرکاری ملازمین کو بھی عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا۔

ان مسلح افراد نے سیاہ اور نارنجی رنگ کے ربن باندھ رکھے ہیں اور یہ دوسری عالمی جنگ میں روس کی فتح کا نشان تھا۔انھوں نے ایسا نشان بھی پکڑا ہوا ہے جس پر لکھا ہے کہ ''کریمیا روس ہے''۔سیمفرپول میں روس نواز اور ان کے مخالفین تارتار باشندوں کے درمیان بدھ کو پارلیمان کی عمارت کے باہر جھڑپیں ہوئی تھیں۔

روس نواز یوکرینی صدر وکٹر یانو کووچ کی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ایک مرتبہ پھر جزیرہ نما کریمیا کی یوکرین سے علاحدگی کی باتیں ہورہی ہیں اور روس نوازوں نے بحر اسود کے کنارے واقع اس علاقے کی علاحدگی کے لیے تحریک شروع کردی ہے۔کریمیا میں تاتار نسل کے لوگ آباد ہیں اور وہ یوکرین کی نئی قیادت کی حمایت کررہے ہیں جبکہ روس نواز سابق صدر یانوکووچ کے حامی ہیں۔ اس دوران یہ بھی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ وکٹر یانوکووچ کیف سے بھاگ کر ماسکو پہنچ چکے ہیں۔