.

سعودی وزیر محنت "رقصِ مزمار" میں بھی طاق نکلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رقص وموسیقی صرف فنکاروں کی میراث نہیں۔ اگر کوئی وزیر بھی فنون لطیفہ میں اپنی کمال مہارت کا مظاہرہ کرے تو اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں چاہے وہ وزیر سعودی عرب جیسے نسبتا قدامت پسند معاشرے سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر محنت وافرادی قوت انجینیئرعادل فقیہ کو روایتی "مزمار رقص" نہایت مہارت کے ساتھ پیش کرتے دیکھا گیا۔ تقریب میں ان کے ہمراہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے چیئرمین قائے رائیڈر اور یمنی وزیر محنت بھی محو رقص دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھری محفل میں ہلکی موسیقی کی دُھن پر جاری روایتی رقص کے دوران وزیر موصوف نے اپنی راقصانہ مہارت سے سب کو حیران کردیا۔ شائد اس سے قبل بہت کم لوگوں کو یہ علم ہوگا کہ صدیوں پرانے اس روایتی رقص کے بارے میں وزیر محنت عادل فقیہ اس قدر گہری دلچسپی اور مہارت تامہ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ "مزمار" جزیرۃ العرب کا مقبول روایتی رقص سمجھا جاتا ہے۔ یہ رقص ایک روایتی کھیل کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہ عموما شام کے اوقات میں اور خوشی کے مواقع پر پیش کیا جاتا ہے۔ رقص کے دوران ہلکی موسیقی کے علاوہ ملی نغمے اور بہادری کے کارناموں پر مبنی گیت بھی سنائے جاتے ہیں۔

رقص پیش کرنے والے افراد اپنے ہاتھوں میں ایک چھوٹی لاٹھی رکھتے ہیں جسے مقامی اصطلاح میں "الشون" کہا جاتا ہے۔ پس منظر میں کچھ لوگ طبلہ اور کچھ بانسری بجاتے ہیں جبکہ محفل میں قبیلے کا کوئی اہم رہ نما شمع محفل کے طور پر بھی موجود ہوتا ہے۔