.

شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کیلیے نیٹو اور روس کی بات چیت

نیٹو اور روس مل کر کارگو جہاز کی حفاظت کریں گے۔ امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے مشترکہ مشن پر عملدرآمد کیلیے نیٹو فورسز اور روس کے درمیان بات چیت یوکرائن کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ بات ایک اعلی امریکی کمانڈر نے بتائی ہے۔

اس سلسلے میں امریکا کے ائیر فورس جنرل فلپ بریڈلو اور یورپ میں امریکی فورس کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ بحر متوسط میں نیٹو اور روس کے ممکنہ مشترکہ آپریشن کیلیے بات چیت جاری ہے۔ تاکہ ٹاکسن تباہ کرنے کیلیے جانے والے امریکی کارگو جہاز '' کیپ رے '' کو تحفظ دیا جا سکے ۔

اس سے پہلے روس اور نیٹو کی مشترکہ باڈی '' نیٹو رشیا کونسل '' کے درمیان ان رابطوں کی خبر 14 فروری کو سامنے آئی تھی۔ امریکی جرنیل کا کہنا ہے کہ '' آجکل نیٹو رشیا کونسل کے درمیان بات چیت کامیابی سے جاری ہے، یہ بات چیت نیٹو اور روس کے درمیان تعاون کی ایک اچھوتی مثال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ''

واضح رہے امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت شام کو اپنے کیمیائی ہتھیار تلفی کیلیے 5 فروری تک حوالے کرنا تھے۔ لیکن ابھی تک صرف ایک کارگو جہاز حوالے کیا جاسکا ہے۔ تاہم امریکی جرنیل کا کہنا ہے کہ '' امریکا شامی ہتھیاروں کی فوری یعنی آج ہی تلفی کیلیے تیار ہے بشرطیکہ شام یہ ہتھیار حوالے کر دے۔''

اب تک ہونے والی بات چیت کے مطابق نیٹو اور روس مل کر امریکی کارگو جہاز کیپ رے کا تحفظ دیں گے جسے 500 ٹن کیمیائی ہتھیار سمندر میں تلفی کے لیے لے جانے ہیں۔ کیونکہ ان خطرناک ہتھیاروں کی زمین پر تلفی سخت خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔