.

چین: سنکیانگ میں دہشتگردی روکنے کیلیے قانون سازی پر غور

پچھلے سال ایک سو افراد کی ہلاکت قانون سازی کا باعث بنی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین میں مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے نیا قانون متعارف کرنے پر سوچ بچار شروع کر دی گئی ہے۔ یہ ضرورت پچھلے سال دہشت گردی کے نتیجے میں میں ایک سو افراد کے مارے جانے کے بعد محسوس کی گئی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق اس قانون پر غور اور اس کی ڈرافٹنگ کا کام رواں سال ہی شروع کیا گیا ہے۔ واضح رہے یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ذرائع کے مطابق چینی حکومت دہشت گردی کو روکنے کیلیے غیر معمولی حد تک سنجیدہ ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس صوبے میں بڑی تعداد میں آباد مسلم اقلیت اور تعداد میں بڑھنے والے چینی نسل پرست گروپ ہن چینیوں کے درمیان مسائل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال قانون سازی کیلیے شروع ہونے والی کوششیں ابھی کچھ عرصہ لے سکتی ہیں۔ اس قانون سازی کو سال کے دوسرے مرحلے کے عملی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے چین کا کریمنل لاء ہی دہشتگردی میں ملوث لوگوں کے خلاف بروئے کار آتا ہے۔ بعض ذرائع یہ سمجھتے ہیں کہ انتہا پسند مسلمان پڑوسی ملکوں کے عسکریت پسندوں سے مدد لیتے ہیں۔ سنکیانگ کے مسلمان اپنی ثقافت کے خاتمے کی کوششوں کے خلاف ہیں ، جبکہ چینی حکومت کا موقف ہے کہ اس نے کافی آزادی دے رکھی ہے۔