.

ایران میں پھانسی پانے سے قبل قیدی نے جلادوں کی پٹائی کردی

ملزم کی والدہ سے ملاقات کی آخری خواہش پوری نہ کرائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں قیدیوں کو اندھا دُھند پھانسی پر لٹکانا روز کا معمول ہے۔ غیر منصفانہ طریقے سے دی جانے والی سزاؤں کے باعث اکثر قیدیوں اور جیل حکام کے درمیان بھی ہاتھا پائی ہوتی رہتی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج مقبول ہو رہی ہے جس میں موت کے سزا یافتہ ایک ملزم کو سزا پرعمل درآمد سے قبل اپنے جلادوں کی پٹائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ جیل انتظامیہ نے پھانسی کے سزا یافتہ ملزم کی والدہ سے ملاقات کی آخری خواہش پوری کرانے سے انکار کردیا تھا جس پروہ مشتعل ہوگیا اور اپنے جلادوں کو لاتیں مار کر گرا دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ شمالی تہران میں کرج شہر کی ایک جیل میں اس وقت پیش آیا جب ایک ملزم کو رات کے آخری پہر پھانسی گھاٹ پر لایا گیا۔ اس نے تختہ دار پر چڑھنے سے قبل چیخ چیخ کر کہا کہ وہ اپنی والدہ سے الوداعی ملاقات کرنا چاہتا ہے لیکن جب جلادوں اور سیکیورٹی حکام نے اس کی بات نہ سنی تو اس نے ایک جلاد لات رسید کی جس سے نتیجے میں نیچے جا گرا۔ بعد میں مزید جلاد اس کی طرف بڑھے اس نے ایک دوسرے کو لات دے ماری اور وہ بھی منہ کے بل جا گرا۔

جیل میں پیش آنے والی اس کشیدگی پر قابو پانے کے لیے مزید سیکیورٹی اہلکار منگوائے گئے جنہوں نے بزور پکڑ کرملزم کو لٹکا دیا۔

موبائل کیمرے کی مدد سے بنائی گئی اس ویڈیو فوٹیج میں کچھ عام شہری بھی دکھائی دیتے ہیں جو ملزم کو پھانسی پر لٹکائے پر حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ جبکہ مصلوب نوجوان کی والدہ بھی کچھ فاصلے پر آہ وبکاء کرتی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے موقع پر موجود ہونے کے باوجود جیلروں نے پھانسی دینے سے قبل بیٹے سے ملاقات نہیں کرائی جس پر اسے گہرا دکھ ہے۔ عام لوگوں کے ھجوم میں سے اکثریت ملزم کے موقف کی حامی دکھائی دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے اس ویڈیو کو حقیقی قرار دیتے ہوئے تہران سرکار کے سزاؤں کے طریقہ کار کو ظالمانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔