.

شہزادہ سلمان کا بھارتی صدر اور وزیر اعظم سے تبادلہ خیال

سعودی ولی عہد کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے: پرنب مکھرجی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے صدر پرنب مکھر جی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

وہ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے شہزادہ سلمان سے راشٹر پتی بھون نئی دہلی میں جمعرات کو ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات استوار ہیں اور یہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی روابط پر مبنی ہیں۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر دفاعی شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی جس یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں،اس سے دونوں ممالک کے دفاعی اہلکاروں کو مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کا موقع ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ 2010ء میں وزیراعظم من موہن سنگھ کے ریاض کے دورے سے بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہوگئے تھے۔

انھوں نے گفتگو کے دوران اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں ،منی لانڈرنگ ،منشیات ،اسلحہ اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں۔

پرنب مکھر جی نے سعودی ولی عہد کی وساطت سے سعودی سرمایہ کاروں کو بھارت میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور خاص طور پر بڑی شاہراہوں ،بندرگاہوں ،ہوائی اڈوں ،میٹرو ٹرانسپورٹ ،سپلائی چین اور پاور پلانٹس کی تعمیر وترقی میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انھوں نے سعودی عرب میں مقیم قریباً اٹھائیس لاکھ بھارتیوں کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرنے اور ان کی فلاح وبہبود پر شہزادہ سلمان کا شکریہ ادا کیا۔سعودی ولی عہد نے بھی جواب میں ایسے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

شہزادہ سلمان نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ بھی ملاقات کی اور ان سے سعودی مملکت اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور عوام کے مفاد میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔انھوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی۔

سعودی ولی عہد،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو نئی دہلی پہنچے تھے۔شہزادہ سلمان سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے وضع کردہ فریم ورک کے تحت یہ دورہ کررہے ہیں اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اس وقت قریباً اٹھائیس لاکھ اسی ہزار بھارتی شہری سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں اور وہ سعودی مملکت میں غیرملکی تارکین وطن کی سب سے بڑی کمیونٹی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان 13-2012ء میں دوطرفہ تجارت کا حجم 43 ارب ڈالرز رہا تھا۔واضح رہے کہ سعودی عرب بھارت کو تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور بھارتی صدر نے شہزادہ سلمان سے ملاقات میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی تجارتی تعلقات بڑھائے جانے چاہئیں۔