.

ترکی: نجی سکولوں کی بندش کیلیے قانون منظور

فتح اللہ گولین کے تعلیمی ادارے بھی زد میں آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک پارلیمنٹ نے نجی شعبے میں کام کرنے والے تعلیمی اداروں کی بندش کیلیے قانون کی منظوری دی ہے اس قانون کی زد میں امریکا میں مقیم حکومت مخالف مذہبی رہنما فتح اللہ گولین کے زیر ملکیت سکول بھی آئیں گے۔

وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن الزام لگاتے ہیں کہ ان کی حکومت کیخلاف جاری مہم درپردہ طور پرفتح اللہ گولین ہی شروع کیے ہوئے ہیں، تاکہ ایردوآن حکومت کو ختم کیا جا سکے۔

ترک پارلیمنٹ نے اپنے منظور کردہ قانون میں ان سکولوں کو یکم ستمبر 2015 تک بند کردینے کیلیے کہا ہے۔ واضح رہے ترکی میں نجی شعبے میں لاکھوں طلبہ طالبات تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

حکومت نے فتحاللہ گولین پر الزام عاید کیا ہے کہ عدلیہ اور پولیس میں موجود ان کے پیروکار اثر انداز ہو رہے ہیں اور حکومت کیخلاف آنے والے کرپشن سکینڈل میں بھی ان کی سازش شامل ہے۔

واضح رہے 30 ماچ کو متوقع بلدیاتی انتخابات سے پہلے پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت کا ہے۔ فتح اللہ گولین کا امریکا میں آچھا اثر رسوخ ہے اور وہ تعلیم ، سائنس کے ساتھ ساتھ بین المذاہب رابطوں میں بھی کافی متحرک ہیں۔