.

سات سال قید رہنے والے اسرائیلی فوجی پر فلم کی تیاری

فوجی گیلاد شالیت کے والد نے فلم پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت جسے کئی سال غزہ میں حماس کے زیر حراست رہنے کے بعد پچھلے سال کے آخر میں فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا تھا کے حوالے سے حماس نے کم بجٹ سے فلم تیاری کی منزل قریب کر لی ہے۔

گیلاد شالیت کو سرحد پار کی گئی ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ بعدازاں سالہا سال تک اسے نا معلوم جگہ پر رکھا گیا۔ اسرائیلیوں کے لیے اسے واپس لانا بہت بڑا چیلنج رہا۔

حماس نے اس ایک اسرائیلی فوجی کو واپس کرنے کے بدلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی۔ اب اس کے بارے میں فلم بنانے کا منصوبہ فنڈز کی کمی کے باعث ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے فلم کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ شاید اس رزمیہ موضوع پر اعلی معیار کی پراڈکٹ سامنے نہ لائی جا سکے۔

''نظر کا عارضی دھوکہ '' نام کی اس فلم کا دورانہ 90 منٹ ہو گا جس میں گیلاد شالیت کے گرفتاری اور اسے چھپائے رکھنے کے سربستہ راز کا انکشاف کیا جائےگا۔ فلم میں جہاں گیلاد شالیت کے بارے میں انکشافات کیے جائیں گے وہیں فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کے بھی نئے گوشے سامنے آئیں گے۔

فلم کے ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر ماجد جوندیہ حماس کے ممبر نہیں ہیں نے اس فلم کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ 2009 شخصی داستانوں پر مبنی فلمیں بنا چکے ہیں۔ حماس کے کمانڈر عماد عقیل پر ان کی تازہ ترین فلم پچھلے سال دسمبر میں سانے آئی ہے۔ عماد عقیل 1993 میں اپنی شہادت تک اسرائیلی ہٹ لسٹ پر رہے۔

گیلاد شالیت پر فلم کے دو حصوں میں سے ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ واضح رہے جون 2006 میں گرفتار ہونے والے گیلاد شالیت کو اکتوبر 2013 میں رہا کیا گیا تھا۔

گیلاد کے والد نے اس فلم کے بارے میں کسی تبصرے سے معذرت کر لی اور کہا وہ حماس کے ساتھ کسی مکالمے میں نہیں پڑنا چاہتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فلم کا پہلا منظر وزارت جیل کے ایک چھوٹے کمرے میں فلمایا گیا ہے۔

فلم میں اداکاری کرنے والے 21 سالہ معمر کا کہنا ہے کہ فلم کے سامنے آنے پر وہ دنیا بھر میں شہرت پالے گا۔ اسرائیلیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایک فلسطینی کے بیٹے نے بھی اس فلم میں کام کیا ہے ۔

اس کا کہنا ہے کہ '' فلم میں کام کرتے ہوئے مجھے اچھا لگا ہے کہ اس کے ذریعے قیدیوں کے حوالے سے انسانی موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ فلم میں کام کرنے والے کل چالیس افراد میں سے 12 خواتین ہیں۔ جبکہ فلم ڈائریکٹر ماجد نے بھی اداکار کے طور پر ایک اسرائیلی افسر کا کردار ادا کیا ہے۔