.

یوکرین میں مداخلت کی روس کو 'قیمت' ادا کرنی پڑے گی

امریکی صدر باراک اوباما کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ روسی وفاق کی طرف سے یوکرین کے اندر فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ملنے والی رپورٹیں، ’سخت تشویش‘ کا باعث ہیں۔ صدر اوباما کے بہ قول یوکرین کے حقِ حاکمیت کی خلاف ورزی سے سنگین نوعیت کا عدم استحکام پیدا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسا کرنا یوکرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہوگا، جس کے بارے میں یوکرین کے عوام کو ہی فیصلے کا حق حاصل ہے۔

امریکی صدر نے کسی مخصوص امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ نہیں دیا۔ اُنھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ روس کے یوکرین کے ساتھ تاریخی تعلقات رہے ہیں اور اِس ضمن میں اُنھوں نے بحیرہ اسود میں سیوسٹوپول کے بحری اڈے کی نشاندہی کی۔ تاہم، صدر نے کہا کہ یوکرین کے اقتدار اعلیٰ کی کسی قسم کی خلاف ورزی، شدید عدم استحکام کا باعث بنے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا، تو بین الاقوامی برادری اِس کی مذمت کرے گی۔ اس معاملے میں امریکہ کیا قدم اٹھائے گا، بقول صدر، امریکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ کھڑا ہوگا، اور اس بات کا اعادہ کیا جائے گا کہ یوکرین میں مداخلت کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔