.

روسی پارلیمان نے یوکرین میں فوج بھیجنے کی اجازت دے دی

امریکا کا اظہارِ تشویش، اوباما کا پیوٹن کو ٹیلی فون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی پارلیمان نے صدر ولادی میر پیوٹن کو یوکرین پر فوج کشی کا اختیار دے دیا ہے جب کہ امریکا نے یوکرین میں روس کی فوجی نقل و حرکت پر "گہری تشویش" ظاہر کی ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کو یوکرین کے برطرف صدر وکٹر یونو کووچ اور یوکرین کے نیم خود مختار علاقے کریمیا کے نئے وزیرِ اعظم سرگئی اکسینوف نے علاقے کی حفاظت کے لیے روس سے اپنی فوج بھیجنے اپیل کی تھی

اس اپیل کے بعد روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پارلیمان کے ایوانِ بالا سے یوکرین میں فوج داخل کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی جسے پارلیمان نے منظور کرلیا ہے۔ یہ منظوری متفقہ رائے سے دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں روسی پارلیمان کے ایوان زیریں ڈوما میں درخواست دیا جانا لازمی نہیں تھا۔ فیڈریشن کونسل کہلانے والے ایوان بالا کی طرف سے منظوری کے بعد یہ فیصلہ صدر پوٹن خود کسی مناسب وقت پر کریں گے کہ کریمیا میں ماسکو کے فوجی دستے اگر تعینات کیے جائیں گے تو کب۔ فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ روسی فوجی دستے ہر حال میں فوری طور پر یوکرائن روانہ بھی دیے جائیں گے۔

روسی پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ روسی صدر کو یوکرین کے کس علاقے میں فوج داخل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز یوکرین سے متعلق دیے جانے والے اپنے بیان میں روس کی توہین کی ہے جس کے جواب میں یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔

اپنے اس بیان میں صدر اوباما نے یوکرین میں روسی فوجیوں کی مبینہ نقل و حرکت کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ یوکرین میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

روسی پارلیمان نے ایک علیحدہ قرارداد میں صدر پیوٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی رویے پر بطورِ احتجاج واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر کو واپس ماسکو بلالیں۔

اطلاعات ہیں کہ روسی پارلیمان کی جانب سے یوکرین پر فوج کشی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد صدر اوباما نے صورتِ حال پر غور کے لیے اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا ہے۔

صدر اوباما کی جانب سے صدر پیوٹن اور امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل کی جانب سے اپنے روسی ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے صورتِ حال پر تبادلہ خیال کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ کریمیا، یوکرین کے ایک نیم خود مختار علاقہ ہے جہاں روسی زبان بولنے والے افراد کی اکثریت ہونے کے باعث عوام کا جھکاؤ روس کی طرف ہے۔ کریمیا کے نو منتخب وزیر اعظم سرگئی اکسینوف نے خطے میں موجود تمام سکیورٹی فورسز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے روس کے صدر سے ’’قیامِ امن‘‘کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

مسٹر اکسینوف نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقے کی سکیورٹی فورسز کے جو کمانڈر ان کے احکامات نہیں ماننا چاہتے وہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر جاسکتے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ روسی صدر ولادیمر پوٹن سے کس قسم کی معاونت چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین کے روس نواز صدر کی برطرفی اور یورپ نواز عبوری حکومت کے قیام کے بعد اکسینوف کو رواں ہفتے کریمیا کی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔

جمعرات کو وہاں کی پارلیمان نے ووٹ کے ذریعے علاقائی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے کریمیا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرنڈم کی حمایت بھی کی تھی۔

یوکرین حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ روس پہلے ہی کریمیا میں اپنی فوج داخل کرچکا ہے جس نے علاقے کے تین بڑے ہوائی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق ہفتے تک کریمیا میں روس کے چھ ہزار سے زائد فوجی داخل ہوچکے ہیں جب کہ مزید اہلکاروں کی آمد جاری ہے۔ یوکرین حکومت نے کریمیا میں روس کی ’’اشتعال انگیزی‘‘ کا طاقت سے جواب نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے پیوٹن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی فوجی نقل و حرکت روک دے۔ یوکرین کے عبوری وزیر اعظم آرسنی یتسنیوک نے ہفتہ کو کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ فوجی تنازع میں نہیں الجھے گا۔