.

تہران: جوہری ادارہ ایران معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیگا

عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے جاری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے اعلی حکام ایران کی طرف سے ابتدائی جوہری معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے ۔ یہ ٹیم آج تہران پہنچ کر اپنا کام شروع کرے گی۔ یہ معاہدہ ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان 24 نومبر 2013 کو جنیوا میں طے پایا تھا۔

ابتدائی جوہری معاہدے کے مطابق ایران کو عملدرآمد کیلیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایران عملدرآمد کے نقشہ کار پر بھی اتفاق کر چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاملے پر مذاکرات کامیابی سے جاری ہیں۔ جبکہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے چار روز قبل کہا تھا '' مجھے امید ہے کہ 20 جولائی تک کی ڈیڈ لائن کے مطابق معاہدہ ممکن ہو جائے گا۔''

روحانی نے یہ بھی تصدیق کی کہ '' ہزاروں گھنٹوں کی مانیٹرنگ کے باوجود اقوام متحدہ کے واچ ڈاگ ادارے کے ماہرین ایسی کوئی چیز سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں جو ایرانی جوہری اسلحے کی تیاری کی غمازی کرتے ہوں۔'' دوسری جانب آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ '' کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی درمیانی سطح کی افزودگی اب لمبے عرصے تک نہیں چلے گی۔''

ایران کے ماہرین کی سطح کے مذاکرات مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے دوسرے سالانہ اجلاس کے موقع پر متوقع ہیں۔ مغربی ممالک کا موقف ہے کہ ایران جوہری اسلحہ کی تیاری کر رہا ہے جبکہ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔