.

افغان جنگ ملک کے مفاد میں نہیں لڑی گئی: حامد کرزئی

گذشتہ 12 سال سے جنگ امریکی سلامتی اور مغربی مفادات کے لیے لڑی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی نے ایک مرتبہ پھر امریکی حکومت کے بارے میں اپنے غیظ وغضب کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ ان کے ملک کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ نہیں لڑی گئی ہے۔ان کے بہ قول افغان ایک ایسی جنگ میں مارے گئے ہیں جو ہماری تھی ہی نہیں۔

حامد کرزئی نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے پہلی مرتبہ کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ افغانستان میں بارہ سال سے جاری جنگ امریکی سلامتی اور مغربی مفادات کے لیے لڑی گئی ہے۔

اب یہ معلوم نہیں ہے کہ حامد کرزئی امریکا سے واقعی اس قدر نالاں ہیں اور انھیں پہلی مرتبہ یکا یک یہ انکشاف ہوا ہے کہ 11 ستمبر 2011ء کو امریکا پر حملوں کے ردعمل میں افغانستان پر مسلط کی گئی جنگ دراصل امریکا اور مغربی مفادات کے لیے لڑی گئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ حامدکرزئی نے انٹرویو کرنے والے صحافیوں کو اپنے دفتر سے لے کر باہر نکلتے ہوئے کہا کہ ''امریکی عوام کو میری نیک خواہشات پہنچائیں اور امریکی حکومت کو میرے غصے بلکہ سخت غصے سے آگاہ کریں''۔

امریکی حکومت کے ساتھ اسی ناراضی کا نتیجہ ہے کہ افغان صدر نے ابھی تک مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور صدر براک اوباما نے ان سے مایوس ہو کر پینٹاگان سے 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا بندوبست کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ''ان (امریکیوں) کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ سکیورٹی معاہدے پر ان کے جانشین صدر کے ساتھ دستخط کریں''۔انھوں نے یہ بات بالاصرار کہی کہ سکیورٹی معاہدے پر ان کے دستخط سے قبل امریکا کو طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ امن بات چیت شروع کرنی چاہیے اور افغانوں کے گھروں پر فضائی حملے اور چھاپہ مار کارروائیاں بند کردینی چاہئیں۔

انٹرویو میں افغان صدر نے کہا کہ انھیں جنگ میں ہلاکتوں اور خاص طور پر امریکی فوج کی کارروائیوں میں افغانوں کی اموات پر بہت تشویش ہے۔اس کی ان کے نزدیک یہ وجہ رہی ہے کہ امریکا نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کے بجائے افغان دیہات پر اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی اتحادیوں پر تنقید کے نتیجے ہی میں انھیں واشنگٹن سے اپنی تشویش کا جواب ملتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں غیرملکی فوج کی تعداد قریباً باون ہزار ہے۔ان میں تینتیس ہزار چھے سو امریکی فوجی ہیں۔طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں چونتیس سو سے زیادہ اتحادی فوجی مارے گئے ہیں۔ان میں دوہزار تین سو سے زیادہ امریکی فوجی تھے۔

اگر امریکا کا افغانستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ طے نہیں پاتا تو پھر اسے جنگ زدہ ملک سے اس سال کے اختتام تک اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانا ہوگا۔البتہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں چند ہزار امریکی فوجی افغان فورسز کی تربیت یا خاص جنگی مقاصد کے لیے جنگ زدہ ملک ہی میں تعینات رہیں گے۔