.

لیبیا:مظاہرین کا پارلیمان پر دھاوا،دو ارکان اسمبلی زخمی

طرابلس میں پارلیمان کے سامنے زبردستی احتجاجی دھرنا ختم کرانے کے خلاف کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متشدد مظاہرین نے عبوری پارلیمان جنرل نیشنل کانگریس (قومی اسمبلی )پر دھاوا بول دیا ہے اور دو ارکان اسمبلی کو گولی مار کر زخمی کردیا ہے۔

قومی اسمبلی (جی این سی) کے اسپیکر نوری ابو صہمین نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ دو ارکان نے اپنی کاروں پر جب پارلیمان کی عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو انھیں گولیاں مار دی گئیں۔انھوں نے مسلح مظاہرین پر فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بیسیوں مظاہرین نے عبوری پارلیمان پر دھاوا بول دیا اور ان میں سے بعض نے توڑ پھوڑ شروع کردی۔مظاہرین جی این سی کی تحلیل کا مطالبہ کررہے تھے۔

وہ پارلیمان کے باہر دھرنے میں شریک مظاہرین کے اغوا کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔قبل ازیں وزارت عدل نے ایک مختصر بیان میں دھرنے میں شریک نوجوانوں کے اغوا کی مذمت کی۔

قبل ازیں مظاہرین نے بتایا تھا کہ مسلح افراد نے ہفتے کی رات دھرنے کو زبردستی ختم کرادیا تھا اور انھوں نے بعض مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا۔میلاد العربی نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے آرہے تھے اور انھوں نے مظاہرین کو ایک خیمے کو آگ لگا دی تھی۔

اتوار کو علاقے کے مکینوں نے پارلیمان کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا اور زیرحراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کے مطابق مسلح افراد لیبی انقلابیوں کے آپریشنز سیل سے تعلق رکھتے تھے۔یہ سابق باغی گروپ جی این سی کی کمان کے تحت کام کرتا ہے۔

واضح رہے کہ جی این سی نے 7 فروری کو اپنی دوسالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد اس میں توسیع کردی تھی لیکن اس کو حکومت سے زور آور مسلح گروپوں نے تسلیم نہیں کیا تھا اور انھوں نے جی این سی کو زبردستی ختم کرنے کی دھمکی دی تھی جس پر اس نے اس سال نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا ۔

لیبیا کی منتخب جنرل نیشنل کانگریس میں سیاسی گروپوں کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ سے آئین کی تیاری کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی جس کے بعد ملک کے نئے آئین کی تیاری کے لیے گذشتہ ماہ ساٹھ ارکان پر مشتمل نئے دستور ساز پینل کا انتخاب کیا گیا تھا۔