.

12 ایئرز اے سلیو نے بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ جیت لیا

بہترین اداکارہ کا ایوارڈ کیٹ نے اپنے نام کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غلامی کے موضوع پر بننے والی تاریخی فلم 'ٹولئیو ایئر اے سلیو' نے بہترین فلم کا اکیڈمی ایوارڈ جیت لیا۔

آسکرز ایوارڈز کی 86 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاہ فام ہدایت کار کی فلم نے ہالی وڈ کا اعلٰی ترین اعزاز اپنے نام کیا۔

امریکا میں خانہ جنگی سے پہلے غلامی کے دور کی عکاس اس فلم نے بہترین معاون خاتون اداکار (لپیٹا یونگو) اور بہترین سکرین پلے کا آسکر انعام بھی حاصل کیا۔

فلم کی کہانی آزاد سولومون نارتھ اپ کے ارد گرد گھومتی ہے، جنہیں لویزیانا میں اغواء کرنے کے بعد غلام بناکر بیچ دیا جاتا ہے۔

آسکرز ایوارڈز کی رات سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی فلم 'گریوٹی' رہی۔

میکسیکو کے فلم ساز الفانسو کورون کی سپیس تھرلر نے سات ایوارڈ جیتے، جن میں خود ان کے لیے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ بھی شامل تھا۔

خیال رہے کہ آسکرز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاطینی – امریکی ہدایت کار کے حصے میں یہ اعزاز آیا ہے۔

وژول ایفکٹس، سینماٹوگرافی وغیرہ سمیت سندرا بلاک کی اس فلم نے سب سے زیادہ تکنیکی ایوارڈز سمیٹے۔

کم بجٹ کی فلم 'ڈیلاس بائرز کلب' کے لیے بھی آسکرز کی رات بہت اچھی ثابت ہوئی۔ فلم نے مجموعی طور پر تین ایوارڈز اپنے نام کیے۔

فلم میں ایڈز کے خلاف کام کرنے والے رضاکار کا کردار ادا کرنے پر میتھیو مک کونوگوے کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، جبکہ ان کے ساتھی اداکار جارڈ لیٹو کے حصے میں بہترین معاون اداکار کا انعام آیا۔

آسٹریلیا کی کیٹ بلنکیٹ کو ووڈی ایلن کی فلم 'بلیو جیسمین' میں خوبصورت اداکاری پر بہترین خاتون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ ایوارڈ لینے کے بعد بلنکیٹ نے فلم میں کاسٹ کرنے پر ایلن کا شکریہ ادا کیا۔

بہترین اینیمیٹڈ فلم کا ایوارڈ 'فروزن' کے حصے میں آیا۔ سن 2002 میں یہ کیٹیگری متعارف کرائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ڈزنی انیمیشن سٹوڈیوز کو یہ ایوارڈ ملا۔

اس مرتبہ آسکرز تقریب کی میزبان ایلن ڈی جینیریز تھیں جنہوں نے اپنے مخصوص ہلکے پھلکے انداز میں تقریب کو آگے بڑھایا۔

آسکرز کی تقریب میں سب سے زیادہ مایوسی فلم امریکن ہسٹل کو ہوئی۔ یہ فلم دس نامزدگیاں حاصل کرنے کے باوجود ایک بھی ایوارڈ نہیں جیت سکی۔