شام : امن مذاکرات کا تیسرا دور فوری ضروری ہے، بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جنیوا میں میڈیا سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی تنازعے کے کیلیے جنیوا ٹو کے تحت امن مذاکرات کا تیسرا دور شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شامی حکومت کو زیادہ تعمیری موقف کے ساتھ مذاکرات میں واپس آنا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات امن مذاکرات کا دوسرا دور 15 فروری کو بے نتیجہ ختم ہو جانے کے بعد شام کی صورت حال مزید بگڑتی دیکھ کر کیا ہے۔ دوسرا دور تعطل کی نذر ہونے پر کوئی نئی تاریخ طے نہیں ہو سکی ہے۔ بان کی مون نے انسانی حقوق کونسل کے جنیوا میں اجلاس دوران کہا '' شامی مسئلے کا حل صرف ایک قومی مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔''

انہوں نے کہا ہم شامی مسئلے کے فریقین کو مذاکرات کی میز پر دوبارہ جمع کرنے کیلیے پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے الاخضر براہیمی سے بھی اتوار کے روز تفصیل سے بات چیت کی ہے۔ جو امن مذاکرات کیلیے سرگرم رہے ہیں۔

بان کی مون نے کہا '' دونوں نے اس امر اتفاق کیا ہے کہ جنیوا امن مذاکرات کا تیسرا دور جلد سے جلد شروع ہو جائے۔ '' اس موقع پر انہوں نے شام میں تین سال سے جاری خونریزی کا بھی حوالہ دیا۔ اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار افراد اس خونریزی کی نذر ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

واضح رہے جنیوا ٹو کے حوالے سے ہونے والے حالیہ امن مذاکرات میں شامی حکومت کا رویہ بالعموم تنقید کا نشانہ بنا کہ اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں بان کی مون نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنی تازہ ملاقات میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ شام پر اپنے اثرو رسوخ کو امن کیلیے استعمال کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں