.

پیوٹن نے جنگی مشقوں میں مصروف دستوں کو واپس بلا لیا

فوجی دستے یوکرین کی صورتحال کے پیش نظر جنگی مشقوں میں مصروف تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ان فوجی دستوں کو واپسی کا حکم دے دیا ہے جو رواں ہفتے کے دوران جنگی مشقوں میں مصروف تھے۔ روسی خبر رساں ادارے نے یہ حکمنامہ کریملن کے ترجمان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔ روسی ترجمان یہ جنگی مشقیں یوکرین میں پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر جاری تھیں تاہم روس اس حقیقت سے انکار کرتا ہے۔

ان مشقوں کے لیے یوکرائنی سرحد سے جڑے ہوئے مغربی روس کے مختلف علاقے منتخب کیے گئے تھے۔ روسی صدر نے یہ حکم اس کے باوجود جاری کیا ہے کہ یوکرائن کے سابق صدر یانوکووچ نے فوج بھجوانے کیلیے روس کو خط بھی لکھا تھا۔

یانوکووچ نے اپنے خط میں لکھا '' میں اس صورت حال میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ روسی فیڈریشن کی افواج یوکرین بھجوا کر قانون کی بالا دستی، امن ، استحکام قائم کرنے اور یوکرائنی عوام کی حفاظت کرنے میں مدد دیں۔''

واضح رہے اس سے پہلے سوویت یونین کے زمانے میں متعلقہ حکمرانوں کی دعوت پر سوویت یونین نے افغانستان بھی فوجی بھجوائی تھی۔ لیکن بعد ازاں افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء کے کچھ ہی سال بعد سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

روسی عزائم کے پیش نظر امریکا نے بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے حالات کی خرابی کا روس کو ذمہ دار قرار دینے کا عندیہ دیا تھا جبکہ امریکی صدر اوباما نے رد عمل میں روس کے ساتھ تمام فوجی مصروفیات معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔