.

آسکر سے مایوس عربوں کے لیے لبنانی مغنیہ اُمید کی نئی کرن!

میسا قرعہ کو دس زبانوں میں گائیکی کی مہارت حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی آسکر ایوارڈ کی ہنگامہ آراء محفل میں کسی عرب ملک کی کوئی ایک فلم بھی اس سال کوئی ایوارڈ بھی حاصل نہ کر سکی مگر لبنان کی ایک پاپ سنگر کی دس زبانوں میں گلوکاری کی گونج نے شکست خوردگی کی اس فضاء کو کم کرنے میں ضروری مدد کی ہے۔

دنیا کی منتخب فلموں کے لیے آسکر ایوارڈ کے انعامات کی بارش کے دوران مصری اور فلسطینی فلم پروڈیوسر پُرامید تھے۔ تاہم مصر کی "The Square " نے امریکا کی Feet from Stardom 20 کے ہاتھوں شکست کھائی جبکہ فلسطینی فلم "عمر" اٹلی کی The Great Beauty کے ہاتھوں مات کھا گئی۔

یوں اس مرتبہ کوئی بھی عرب فلم آسکر ایوارڈ نہ جیت سکی۔ البتہ ایک لبنانی گلوکارہ میسا قرعہ کی دس زبانوں میں گلوکاری کی گونج ضروری سنائی دی ہے۔ میسا نے فلم امریکی فراڈ میں عربی آہنگ میں انگریزی گانا پیش کیا جس کے چہار دانگ عالم میں چرچے ہونے لگے ہیں۔

گو کہ فلم "امریکی دھوکہ" کو بھی آسکر ایوارڈ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا مگراس میں میسا کے گانوں کی شمولیت نے عرب دنیا کی اسے توجہ کا مرکز ضرور بنا دیا ہے۔

میسا قرعہ 1989ء میں بیروت میں پیدا ہوئی لیکن وہ گذشتہ سات سال سے امریکا ہی میں مقیم ہے۔ دو سال قبل اس نے امریکا ہی کے ایک ادارے سے" گلوکاری اور موسیقی کمپوزیشن " کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ اس کے صوتی آہنگ میں معروف عرب اداکاراؤں فیروزی اور صباح اسمہانی کی رومانوی اور طلمساتی آوازوں کی جھلک بھی موجود ہے۔ لیکن اس پر مستزاد یہ کہ میسا قرعہ انگریزی، فرانسیسی، عربی، اطالوی، اسپانوی، فارسی، ترکی، یونانی ، ترکی اور بلغاری زبانوں میں بھی متاثر کن گلوکاری کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

بچپن سے گلوکاری کا شوق

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی نژاد میسا قرعہ نے گلوکاری اس وقت شروع کی جب وہ محض 12 برس کی تھی۔ اپنے اسی شوق کے مطابق اس نے بیروت میں اوائل عمری ہی میں "نیشنل کنزویٹری" میں پیانو بجانے اور موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ میسا کے عربی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں گانوں کے باضابطہ البم تو موجود نہیں ہیں البتہ ان کے دو ٹی پروگراموں کے دوران پیش کیے گئےانگریزی گانے "یو ٹیوب" بکثرت دیکھے اور سنے گئے ہیں۔

Winter to Spring سے White Rabbit تک

میسا قرعہ اپنی کم عمری کے باوجود جس تیزی کے ساتھ ہالی وڈ میں ترقی کے زینے چڑھ رہی ہے۔ اس سے اس کی بڑھتی مقبولیت کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے تاہم ابھی تک وہ عرب تارکین وطن کے ہاں تو شہرت رکھتی ہے مگرعرب ممالک میں اس کا کوئی زیادہ حلقہ تعارف نہیں ہے۔

جیسے جیسے اس کی آواز موسیقی کے دل دادہ و شوقین لوگوں کے کانوں میں پڑتی جا رہی ہے انہیں ماضی کے بھولی بسری اپنی پسندیدہ مغنیوں کی یاد ستانے لگی ہے۔ یہ اس کی مغرب میں مقبولیت کی علامت ہے کہ سیکڑوں مشہور موسیقاراؤں میں امریکی فلم کے انگریزی گیت کے لیے میسا کا انتخاب کیا گیا۔ اس سے قبل گذشتہ صدی کے نصف آخرمیں امریکی راک بینڈ "جیفرسن ایئرپلین" کے گروپ میں شامل بعض عرب ادکاراؤں کے گانے "White Rabbit" نے تہلکہ مچا دیا تھا۔ یہ انگریزی گیت امریکی فلم "American Husstle" میں شامل کیا گیا۔ اس فلم نے بھی ایک مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لیے قسمت آزمائی کی، مگر ناکام رہی۔

"Winter to Spring" میسا قرعہ کے انگریزی گانے کا عنوان ہے۔ انٹرنیٹ پر بھی اس کا ایک ہی کلپ مل سکا ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی جانب سے لاس اینجلس میں آسکر کمیٹی کی خاتون ڈائریکٹر " ڈیان الڈر" سے ای میل کے ذریعے میسا کے مزید گانوں کے بارے میں رابطے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

لبنانی ٹی وی کے پروگرام "حدیث البلد" میں گفتگو کرتے ہوئے میسا نے بتایا کہ وہ بیروت میں تھی جب اسے فلم "امریکی فراڈ" کے پروڈیوسر کا فون آیا۔ اسے کہا گیا کہ انہیں فلم کے لیے "سفید خرگوش"[White Rabbit] کا گانا اس کی آواز میں درکار ہے۔ وہ اس کے گانے کو ہالی وڈ کی ایک دستاویزی فلم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ میسا نے انگریزی گانا گایا اور اسے اپنے آئیفون میں ریکارڈ کر کے انہیں بھیج دیا۔ چند گھنٹے بعد انہوں نے میسا کو امریکا آمد کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھیج دیا۔

"ڈون الڈر منیجمنٹ" کمپنی کی لبنانی نژاد خاتون مالکہ ڈون الڈر نے بتایا کہ انہیں ایک امریکی فلم کے انگریزی گانوں کے لیے عرب گلوکاروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے عرب نوجوان جو اپنا عربی تشخص برقرار رکھتے ہوئے مغرب کو بھی اپنے فن سے متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ میں نے میسا کی آواز میں گلوکاری سنی تو میں بہت متاثر ہوئی۔ جب میں نے انٹرنیٹ پر میسا اور سیمون شاہین کو انگریزی اور عربی میں ایک ساتھ گاتے سنا تو میں نے انہیں امریکی امریکی فلموں کے لیے تجویز کیا۔