.

کالعدم اسلامی جماعت کی معاونت پر قطری ڈاکٹر کو7 سال قید

دواماراتی شہریوں کو اخوان سے تعاون کے الزام میں پانچ ،پانچ سال قید کی سزا کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے ایک قطری ڈاکٹر کو کالعدم اسلامی جماعت کی حمایت اور مالی معاونت کی پاداش میں قصوروار قرار دے کر سات سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی اطلاع کے مطابق:''قطری ڈاکٹر محمود عبدالرحمان الجیدہ کو ایک کالعدم خفیہ تنظیم میں شمولیت اور اس کے ساتھ تعاون کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور وفاقی عدالت نے انھیں سات سال جیل کی سزا سنائی ہے۔اس کے بعد انھیں ملک بدر کردیا جائے گا''۔

وام نے بتایا ہے کہ ''مشتبہ قطری ڈاکٹر پر کالعدم تنظیم کے مقامی اور بین الاقوامی لیڈروں کے ساتھ ابلاغی روابط رکھنے اور اس تنظیم کی مالی اور اخلاقی حمایت کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی''۔وام کے مطابق اس تنظیم نے حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش کی تھی۔

اس نے اس تنظیم کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن یہ اخوان المسلمون کی اماراتی شاخ ہے۔قطری ڈاکٹر پر تنظیم کی سرکردہ شخصیات کے درمیان تنازعات کو طے کرنے کے لیے ثالثی کرنے ،فنڈز وصول کرنے اور انھیں کالعدم تنظیم کے ارکان تک منتقل کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

یواے ای کے سرکاری خبررساں ادارے نےمزید اطلاع دی ہے کہ دواماراتی شہریوں عبدالواحد حسن البادی الشہی اور سعید عبداللہ البریمی کو بھی اس کالعدم تنظیم سے تعاون اور تعلق کے الزام میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔امارات کی فیڈرل سپریم کورٹ نے البریمی کے گھر سے برآمد ہونے والے ڈیڑھ لاکھ درہم کے کرنسی نوٹ اور دوسرے آلات ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔