.

یمن:امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے چار مشتبہ ارکان ہلاک

مہلوکین میں عراق پلٹ مقامی جنگجو لیڈر علی الجریمی بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمالی صوبے الجوف میں امریکا کے بغیر پائلٹ جاسوس طیارے کے حملے میں عراق پلٹ ایک جنگجو سمیت القاعدہ کے چار مشتبہ ارکان مارے گئے ہیں۔

ایک یمنی عہدے دار نے بتایا ہے کہ امریکی ڈرون نے جوف کے علاقے خلقہ میں ایک گاڑی پر دوراکٹ فائر کیے ہیں۔انھوں نے حملے میں چار ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ان میں مقامی جنگجو لیڈر علی جریمی بھی شامل ہے جو عراق میں جنگ لڑچکا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے نے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے یمن میں 2012ء سے میزائل حملے تیز کررکھے ہیں لیکن امریکا نے سرکاری طور پر کبھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ یمنی حکومت کی جانب سے ان حملوں کے خلاف کوئی احتجاجی بیان سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے یمن کی درپردہ حمایت حاصل ہے اور عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے سرکاری طور پر ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جاتی۔

امریکا کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں اس کا ڈرون پروگرام القاعدہ کے جنگجوؤں کے خاتمے میں کامیاب رہا ہے۔امریکی سی آئی اے یمن کے علاوہ پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بھی القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے کررہی ہے۔

یمنی وزیرخارجہ ابوبکرالکربی نے گذشتہ سال ستمبر میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈرون حملے ایک ''ناگزیر برائی''اور''بہت محدود معاشقہ'' ہیں جو یمنی حکومت کے ساتھ رابطے کے ذریعے کیے جارہے ہیں۔

تاہم بعض یمنیوں اور بعض امریکی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہورہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا مخالف جذبات کو بھی انگیخت مل رہی ہے۔

یادرہے کہ دسمبر2013ء کے اوائل میں یمن کے وسطی صوبے البائدہ میں ایک ڈرون حملے میں شادی میں شرکت کے لیے جا؛6نے والے سولہ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے تھے۔یمنی حکومت نے اس حملے کے فوری بعد کہا تھا کہ اس میں القاعدہ کے سینیر جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس نے شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا تھا۔

لیکن مقامی قبائلیوں نے حکومت کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے شہریوں کی ہلاکت پر مآرب اور صنعا کے درمیان مرکزی شاہراہ کو احتجاج کے طور پر بند کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی والے علاقوں میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملے کیے جارہے ہیں اور عام شہری بھی ان حملوں میں نشانہ بن رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس ڈرون حملے کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں مقامی سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ مہلوکین کو غلط طور پر القاعدہ کے ارکان سمجھ لیا گیا تھا۔

اس حملے کے بعد یمنی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں یمن کی علاقائی خود مختاری کے احترام اور ڈرون حملوں میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔تاہم یہ ایک غیر پابند قرارداد تھی اور حکومت کے لیے اس کی اہمیت ایک سفارش کے سوا کچھ نہیں تھی۔چنانچہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی ڈرونز نے یمن میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔