.

سعودی عرب، یو اے ای اور بحرین کے سفراء قطر سے واپس

قطر کی جانب سے اخوان مخالف کارروائی نہ کرنے کے ردعمل میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین نے قطر سے اپنے سفراء کو واپس بلا لیا ہے۔ان ممالک نے یہ اقدام قطر کی جانب سے مصر کی اسلامی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور خطے کے دوسرے ممالک میں اس کی شاخوں کی مسلسل حمایت کے ردعمل میں کیا ہے۔

ان تینوں خلیجی ممالک نے بدھ کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں دوحہ میں متعین اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ قطر نے علاقائی سکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اورانھوں نے اپنی سلامتی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ قطر ،متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور بحرین چھے رکن ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل میں بھی شامل ہیں لیکن ان کے درمیان مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔

سعودی عرب حسنی مبارک کو اپنا اہم اتحادی خیال کرتا تھا جبکہ قطر نے ان کے بعد منتخب ہونے والے اخوان المسلمون کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کوخطیر مالی امداد مہیا کی تھی۔اس کے علاوہ بھی ان کی ہر طرح سے حمایت کی تھی۔حتیٰ کہ قطر واحد عرب خلیجی ملک تھا جس نے مصر کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی اور اس کے اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب مصرکی فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے حامی ہیں اور ان دونوں ممالک کی حکومتوں نے اپنے ہاں اخوان المسلمون کے کارکنان اور حامیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا ہے جس کے دوران اس تنظیم سے وابستہ سیکڑوں کارکنان مارے گئے یا انھیں پکڑ کر پابند سلاسل کردیا گیا۔

مذکورہ تینوں خلیجی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ''قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گذشتہ نومبر میں سعودی عرب میں جس سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے،وہ اس کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ریاض میں منعقدہ اس اجلاس میں امیرکویت بھی موجود تھے اورسکیورٹی معاہدے کی خلیج تعاون کونسل کے دوسرے ممالک نے بھی توثیق کی تھی۔

اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ''جی سی سی کے تمام رکن ممالک کسی دوسرے ملک کے داخلی امور میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور وہ ایسی تنظیموں یا افراد کی حمایت بھی نہیں کریں گے جن سے جزیرہ نما عرب کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہو؛سکتے ہوں۔خواہ یہ خطرات براہ راست سکیورٹی ورک یا سیاست پر اثرانداز ہونے سے متعلق ہوں''۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اس سمجھوتے پر دستخطوں کے تین ماہ بعد بھی قطر کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا حالانکہ خلیجی ممالک نے دوحہ کی قیادت کو اس ضمن میں اقدام پر آمادہ کرنے کی غرض سے بہتیری کوششیں کی ہیں۔

یواے ای ،سعودی عرب اور بحرین نے ریاض میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ کے منگل کو منعقدہ اجلاس سے ایک روز بعد دوحہ سے سفیر بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اجلاس میں تنظیم کے باقی پانچ ممالک کے وزرائے خارجہ نے قطر کو مذکورہ سکیورٹی معاہدے کی پاسداری پر قائل کرنے کی ؛کوشش کی تھی۔

یہ تینوں ممالک دوحہ میں مقیم معروف عالم دین علامہ یوسف قرضاوی کی اپنی حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید پر نالاں ہیں اور چھپے لفظوں میں قطر سے اخوان المسلمون سے ناتا توڑنے کے علاوہ اس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں لیکن قطر نے ان ممالک کے بار بار کے مطالبات کے باوجود ہنوز ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔

یواے ای نے گذشتہ ماہ قطری سفیر کو طلب کیا تھا اور ان سے علامہ یوسف قرضاوی کے مخالفانہ بیانات کی وضاحت طلب کی تھی اور ان پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔یو اے ای نے دوسرے دو ممالک کے ساتھ آج بدھ کو اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے سفیر صاحب گذشتہ کئی ماہ سے دوحہ میں نہیں ہیں اور وہ واپس آچکے ہیں۔