.

دہشت گردی کا واقعہ نسل پرستی کا نتیجہ نہیں تھا:چینی حکام

چاقووں سے حملے کے واقعے کے ذمہ دار صوبہ سنکیانگ کے علاحدگی پسند تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے حکام نے صوبہ سنکیانگ میں پچھلے ہفتے کے دوران چاقو زنی سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کا نسل پرستی سے تعلق نہیں ہے۔ حکام نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری اس صوبے کے علاحدگی پسندوں پر عاید کی ہے۔

واضح رہے پچھلے ہفتے کے دوران چین کے ایک ریلوے سٹیشن پر چاقووں سے حملہ کرکے 29 افراد کو ہلاک جبکہ 140 کو زخمی کردیا گیا تھا۔ یہ واقعہ جنوب مغربی شہر کونمنگ میں پیش آیا تھا۔

اس علاقے میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ تھا۔ اس سے پہلے پچھلے سال ماہ اپریل کے دوران ایک سو افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ہن قبائل اور مسلمانوں کے درمیان فسادات پھیل گئے تھے۔

چینی حکومت کے ذمہ دار کا کہنا تھا کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے اور وہ علاحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ یہ مسلمان مخلصانہ انداز میں مرکز کے حامی ہیں۔

چینی ذمہ دار کی طرف سے ان خیالات کا اظہار چینی حکام کی خبروں پر تشویش کا ثبوت ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ آیندہ دنوں مزید واقعات ہو سکتے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ شرپسندوں کے غیر ملکی گروپوں کے ساتھ روابط ہیں۔ تاہم وہ ان فسادات کی بنیاد نسل پرستی کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔