سعودی عرب: مقوی مشروبات پر پابندی، کمپنیوں میں افراتفری

سعودی حکومت کے فیصلے کے بعد کمپنیوں کو شدید مالی نقصان کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی حکومت کی جانب سے مقوی مشروبات پر جزوی پابندی کے فیصلے پر اس صنعت سے وابستہ اداروں کا کہنا ہے کہ انھیں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

سعودی عرب نے اگلے روز سرکاری محکموں، صحت اور تعلیمی داروں میں توانائی بخش مشروبات (انرجی ڈرنکس) کی فروخت پر پابندی عاید کر دی ہے اور ان مشروبات کی کسی بھی شکل میں اشتہاربازی اور مشروبات ساز اداروں کی جانب سے کھیلوں، سماجی یا ثقافتی مقابلوں اور تقاریب کے لیے اسپانسرشپ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

سعودی کابینہ نے مقوی مشروبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ وزارت داخلہ کے انرجی مشروبات کے منفی اثرات سے متعلق ایک مطالعے کی روشنی میں کیا ہے۔ سعودی کابینہ کے فیصلے کے تحت کسی بھی توانائی بخش مشروب کی اشتہار بازی پر پابندی ہو گی اور ان کی کسی بھی قابل مطالعہ، قابل سماعت یا بصارت میڈیا ذریعے یا کسی بھی اور طریقے سے تشہیر یا فروغ پر پابندی ہو گی۔ ان مشروبات میں ریڈ بل، مونسٹر، برن اور پاور ہارس وغیرہ کے برانڈ شامل ہیں۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے سعودی عرب کی مقوی مشروبات کی منفعت بخش مارکیٹ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ سعودی عرب اس وقت انرجی ڈرنکس کے دس بڑے صارف ممالک میں سے ایک ہے۔

ایک تحقیقاتی فرم یورو مانیٹر انٹرنیشنل کے ترجمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''اس پابندی سے یقینی طور پر سعودی عرب کی مارکیٹ میں مقوی مشروبات کی فروخت میں کمی واقع ہوگی''۔

خلیج سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی مشروب کمپنی کے ایک سابقہ ملازم کے بہ قول سعودی حکومت کے فیصلے سے انڈسٹری میں ''افراتفری'' پھیل گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب میں مقوی مشروب کے برانڈز کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

مقوی مشروبات میں سب سے زیادہ بکنے والے برانڈ ریڈبل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سعودی حکومت کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے صحت کے حکام نے ریڈبل انرجی ڈرنک کے استعمال کو محفوظ قرار دیا ہے۔

ریڈبل سعودی عرب میں مقوی مشروبات کا سب سے مقبول برانڈ ہے اور یہ کمپنی مختلف کھیلوں اور کار پارک ڈرائیونگ وغیرہ ایسے پروگراموں کا بھی انعقاد کرتی رہتی ہے لیکن سعودی فیصلے کے تحت اب وہ اس طرح کے پروگراموں کی اسپانسر شپ نہیں کر سکے گی کیونکہ توانائی بخش مشروبات ساز کمپنیوں، ان کے ایجنٹوں، تقسیم کاروں اور مارکیٹنگ ایسوسی ایشنوں پر کھیلوں کے کسی مقابلے ،سماجی یا ثقافتی تقاریب کی اسپانسرشپ یا کسی ایسے ضابطہ کار کو اختیار کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جن کے ذریعے ان کی تشہیر یا فروغ ہوسکتا ہو۔

سعودی عرب سے پہلے متحدہ عرب امارات اور کویت میں بھی مقوی مشروبات کے ٹن پر انتباہی لیبل لگانے کی پابندی عاید کی جا چکی ہے۔ اب یورو مانیٹر کا کہنا ہے کہ دوسرے عرب ممالک سعودی عرب کی پیروی میں مقوی مشروبات کی فروخت کے خلاف سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں