جانورذبح کرنا غیر انسانی ہے:برطانوی ویٹرنری ایسوسی ایشن

صدیوں پرانا عقیدہ پرانے دور میں ٹھیک ہو سکتا ہے، جان بلیک ویل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈنمارک میں جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کے بعد اہم یورپی ملک برطانیہ میں بھی حلال طریقے سے جانوروں کے ذبح کرنے کو '' ظالمانہ '' طریقہ قرار دے کر اس پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔ یہ مطالبہ جانوروں کے ڈاکٹروں کی تنظیم برٹش ویٹرنری ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر جان بلیک ویل نے کیا ہے۔

جان بلیک ویل کے مطابق ''روایتی اور رسمی انداز سے مرغیوں، بھیڑوں اور دوسرے مویشیوں کو ذبح کرنا جانوروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے، اس لیے میں اس معاملے کو مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔''

جان بلیک ویل نے تسلیم کیا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہو سکتا ہے لیکن انھوں نے کہا '' کہ صدیوں پرانے عقاید ہو سکتا ہے پرانے دور میں درست ہوں۔'' جان بلیک ویل نے کہا ایک مکمل پابندی بہت دور نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں یہ سب سمجھتے ہیں کہ جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ غیر انسانی ہے اور اس طریقے سے جانوروں کو تکلیف ہوتی ہے۔

برطانوی ویٹرنری ایسوسی ایشن کے صدر نے مزید کہا '' ہم نے اسے مذہب کے دائرے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے، یہ کوشش مذہب یا عقیدے پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ محض جانوروں کی بہبود کا معاملہ ہے۔''

انھوں نے کہا مسلمانوں اور یہودیوں کے ہاں جس طرح جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے اس میں جانوروں کی گردن کو کاٹا جاتا ہے اور خون بہایا جاتا ہے اس لیے یہ غیر انسانی ہے۔''

جان بلیک نے اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھانے کےلیے کہا ہے لیکن دوسری جانب یہودیوں کی برطانوی تنظیم کے نائب صدر جوناتھن ارکوش نے جان بلیک کے خیالات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا یہ مکمل طور پر ناسمجھی اور گمراہی کا نتیجہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں