.

کریمیا کی علاحدگی کے لیے ریفرینڈم خلاف قانون ہے:اوباما

روس بحران کے حل کے لیے یوکرین کی جائز حکومت سے بات چیت کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ کریمیا کی روس میں شمولیت کے لیے ریفرینڈم یوکرین کے آئین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کریمیا کے مستقبل کے حوالے سے مجوزہ ریفرینڈم یوکرین کے آئین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یوکرین کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی بات چیت میں اس کی جائز حکومت کو شامل کیا جانا چاہیے''۔

قبل ازیں کریمیا کی مقامی حکومت نے اس یوکرینی علاقے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے 16 مارچ کو ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا ہے اور اس کی پارلیمان نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے کہا ہے کہ وہ ان کے علاقے کی روسی فیڈریشن میں شمولیت کے لیے درخواست کا جائزہ لیں۔

امریکی صدر نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء میں ہم اس دور سے بہت آگے گزر آئے ہیں جب سرحدوں کا جمہوری لیڈروں کے سروں پر دوبارہ تعین کیا جاسکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ دنیا روس کے اقدام کے خلاف اور یوکرین کی حمایت میں متحد ہے۔تاہم اس کے باوجود روس کے لیے راستہ بچاہوا ہے اور ہم اس پر زوردیتے ہیں کہ وہ یوکرینی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے اس بحران کو حل کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''عالمی حمایت سے آیندہ کسی بھی ڈیل کے تحت یوکرین میں انتخابات ہوں گے،بین الاقوامی مبصرین کو اس ملک میں آنے کی اجازت ہوگی اور روسی فورسز بحر اسود میں اپنے اڈے برقرار رکھیں لیکن اگر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی جاری رہتی ہے تو امریکا ،اس کے اتحادی اور بین الاقوامی برادری بحران کے حل کے لیے پُرعزم ہیں''۔

براک اوبامانے یہ بیان امریکا کی جانب سے روس کی یوکرین میں مداخلت کے خلاف متعدد سینیر روسی عہدے داروں پر ویزے کی پابندی اور مختلف شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عاید کیے جانے کے چندے بعد جاری کیا ہے۔یورپی یونین بھی روس کے یوکرین میں اقدامات کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔