یوکرین: نئی حکومت نہیں یانوکووچ جائز حکمران ہے ۔ پیوٹن

روسی اقدامات سے عالمی امن کو خطرہ ہے، فون پر اوباما کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا اور روس کے تعلقات کو یوکرین تنازعے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات ایک جاری کیے گئے بیان میں کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پیوٹن نے امریکی صدر اوباما سے ایک گھنٹہ طویل فون کال پر یہ بات چیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر اختلاف کے باوجود پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے طریقے پر غور کیا جانا چاہیے۔

پیوٹن نے زور دے کر کہا کہ امریکا اور روس کے غیر معمولی تعلقات سے عالمی امن اور استحکام وابستہ ہے۔ اس لیے ان تعلقات کو انفرادی سطح کے اختلاف کی وجہ سے قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر پیوٹن نے اوباما سے کہا یوکرین کی نئی حکومت دستور کے خلاف بغاوت سے آئی ہے، روسی رہنما کے مطابق کریمیا کے مشرقی، اور جنوب مشرقی علاقے میں مکمل طور پر غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔

واضح رہے جمعرات کے روز یوکرینی پارلیمنٹ نے یوکرین کے جنوبی علاقے کو روس کے ساتھ ملانے کیلیے ووٹ دیا ہے ، اس سلسلے میں 16 مارچ کو ریفرنڈم کرانے کیلیے بھی کہا گیا ہے۔ مغرب کے حامی یوکرینی رہنماوں نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی قرار دیا ہے۔

پیوٹن نے فون کال کے دوران کہا '' روس امداد کیلیے پکارنے والوں کو نظر انداز نہں کر سکتا ہے۔ تاہم وہ جو بھی کرے گا بین الاقوامی قوانین کے مطابق کرے گا۔ جواباً اوباما نے کہا روس کو چاہیے کہ امکانی سفارت کاری کے ذریعے سامنے آنے والی شرائط کو قبول کرے۔ واضح رہے یوکرین کی صورت حال نے امریکا اور مغربی مماک کے درمیان تعلقات کو سرد جنگ کے دور کے بعد ایک مرتبہ پھر کشیدہ کر دیا ہے۔

روسی صدر نے اس حوالے سے اپنے موقف کا پوری سختی کے ساتھ دفاع کیا اور یوکرین کو روس کی ایک برادر ریاست قرار دیا۔ پیوٹن نے کہا ماسکو کریمیا کی صورت حال کے پیچھے نہیں ہے۔ انہوں اس حوالے سے مغربی ملکوں کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ روسی افواج نے کریمیا میں سرکاری عمارات کو قبضہ میں لے لیا ہے۔

روسی صدر نے کریمیا میں فوجیوں کی موجودگی کے حوالے سے وضاحت کی کہ وہ روسی فوجی نہیں بلکہ مقامی خود حفاظتی یونٹس تھے۔ انہوں مغربی طاقتوں کے ساتھ یوکرین کے مسئلے کے حل کیلیے تعاون کرنے کا کہا تاہم انہوں نے زور دیا کہ یانوکووچ ہی یوکرین کا قانونی ور جائز حکمران ہے۔ اس لیے جو بھی معاہدہ ہو 21 فروری کے معاہدے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

دونوں عالمی رہنماوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ امریکا اور روس کے وزرائے خارجہ کو باہمی رابطے جاری رکھنے چاہییں تا کہ یوکرینی مسئلے کا حل نکل سکے۔ دریں اثناء امریکا نے جاپان کے وزیر اعظم کے ساتھ چالیس منٹ تک فون پر بات کی ہے اور انہیں یوکرین میں روسی مداخلت کے بارے میں بتایا۔ اسی حوالے سے وائٹ ہاوس کے جاری کردہ بیان میں روسی اقدامات کو یوکرین کی خود مختاری اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کیلیے بھی ایک خطرہ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں