.

آئن سٹائن شیعہ مسلک مسلمان تھے: ایرانی عالم دین

مُراسلت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے تین ملین ڈالر مختص کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے قدامت پسند اہل تشیع علماء کی جانب سے بسا اوقات انوکھے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔ انہی تازہ دعوؤں میں ایرانی ماہرین کونسل کے چیئرمین آیت اللہ مہدوی کنی کا وہ دعویٰ بھی شامل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ فزکس کے مشہور سائنسدان اور نظریہ اضافیت کے بانی البرٹ آئن سٹائن نے اسلام کا شیعہ مسلک قبول کر لیا تھا اور وہ امام جعفر صادق کے سچے پیروکار تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عالم دین کے اس دعوے پرمبنی ایک ویڈیو فوٹیج کے منظرعام پر آنے کے بعد اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ آئن اسٹائن امریکا کے جرمن نژاد یہودی باشندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ آخر دم تک اپنے مذہب پر قائم رہے ہیں اور علامہ مہدوی کے دعوے کی کسی دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیت اللہ مہدوی کنی کا یہ دعویٰ کب کا ہے کیونکہ پہلے یہ ویڈیو کلپ صرف فارسی ویب سائٹ پر گردش کرتا رہا ہے۔ وہاں سے یو ٹیوب نے اپ لوڈ کیا۔ ویڈیو میں علامہ مہدوی کنی کو نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ "بعض کتابوں میں آئن سٹائن کے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور امام جعفر صادق کے سچے پیروکار اور ان سے محبت کرنے والے تھے"۔

ایران کے فارسی سوشل میڈیا کے مطابق شیعہ مسلک قبول کرنے کے بعد گذشتہ صدی میں سنہ 60 کی دھائی میں آئن سٹائن اور ایرانی عالم دین "آیت اللہ بروجردی" کے درمیان خط کتابت بھی ہوئی تھی تاہم اس کا کہیں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

فارسی ویب سائٹ "روایات آیت اللہ بروجردی" کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں مقیم پروفیسر ابراہیم مہدوی نے "مرسڈیز" اور "فورڈ" کار کمپنیوں کے بروکروں کی مدد سے علامہ بروجردی اور آئن سٹائن کے مابین ہونے والی مراسلت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے تین ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کی تھی تاہم وہ نہیں مل سکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے اس مراسلت کی جو معلومات مل سکی ہیں، ان میں آئن سٹائن کے ہاتھ سے لکھے کچھ مکتوبات شامل ہیں۔ ان میں آئن سٹائن کا آخری مکتوب جسے "البیان" کا نام دیا گیا ہے بتایا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے شیعہ ہونے اور امام جعفر صادق کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن اس مکتوب کے جعلی یا اصلی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئن اسٹائن نے نہ صرف اسلام کا شیعہ مسلک قبول کیا بلکہ اپنے نظریہ اضافیت کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق قرار دیا۔ ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بھائی حمید رضا پہلوی کی مرتب کردہ کتاب "بحار الانوار" میں بھی آئن سٹائن کے اس دعوے کا ذکر موجود ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ واقعہ معراج رسول سے بھی نظریہ اضافیت ثابت ہوتا ہے۔

زبانی پیغام رسانی

بعض شیعہ علماء کے دعوؤں کے برعکس اس وقت ایران میں آئن سٹائن کے مسلمان ہونے کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔ آیت اللہ علی بروجردی کے پوتے آیت اللہ علوی کا کہنا ہے کہ ان کے دادا مرحوم اور فزکس کے مشہور جرمن سائنسدان آئن سٹائن کے درمیان تحریری مراسلت نہیں ہوئی بلکہ علامہ بروجردی ایرانی سائنسدان ڈاکٹر حسابی کے ذریعے ان تک اپنے زبانی پیغامات پہنچایا کرتے تھے۔ نیز آئن سٹائن کے شیعہ مذہب قبول کرنے کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ملیں۔

ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود علامہ علوی کا کہنا ہے کہ ان کے دادا اور آئن سٹائن کے درمیان ہونے والی بات چیت ایک راز ہے جس کی تردید یا تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ آئن سٹائن 18 اپریل 1955 کو امریکی ریاست نیو جرسی کے"ٹرینٹن" شہر میں انتقال کرگئے تھے۔ فوتگی کے بعد امریکی ڈاکٹر"ٹامز ہاروے" نے ان کے سر سے دماغ نکال لیا تھا اور بقیہ جسم جلا کر اس کی راکھ نامعلوم مقام پر منتقل کر دی گئی تھی۔

وفات سے قبل آئن سٹائن نے اپنے تمام مسودا، کتابیں اور مراسلات مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی میں رکھنے کی وصیت کی تھی اور ان کے استعمال کے حقوق بھی عبرانی یونیورسٹی کو سونپ دیے گئے تھے۔