.

پیوٹن کی باڈی لینگوئج ، نگرانی کی ذمہ داری پینٹاگان کے سپرد

امریکا اسامہ اور صدام سمیت 15 شخصیات کی باڈی لینگوئج جانچ چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی پینٹاگان نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے عزائم اور رجحانات کو جانچنے کیلیے ان کے خیالات اور اعلانات کے ساتھ ساتھ ان کی حرکات و سکنات پر بھی گہری نظریں گاڑ رکھی ہیں، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ ان کے فوری اور مستقبل بعید کے عزائم کیا ہیں۔ اس سلسلے میں پینٹاگان میں ولادی میر پیوٹن کی باڈی لینگوئج کی باضابطہ سٹڈی کی جاتی ہے۔

ماضی میں یہ اسائینمنٹ امریکی وزارت خارجہ کے ذمہ تھی لیکن اب یہ ذمہ داری امریکی محکمہ دفاع کے سپرد کر دی گئی ہے۔ امکانی طور پر اس کی ایک وجہ ماسکو کی فرجی نوعیت کی سرگرمیاں اور بین الاقوامی فوجی رابطوں میں اضافہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق روسی صدر پیوٹن کے نفسیاتی جائزے پر مبنی پروفائل کو اس سے پہلے 2012 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔

امریکی حکام جو پیوٹن پر نطریں گاڑے رکھنے کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ'' اس سے امریکی قیادت اور فیصلہ سازوں کو پیوٹن کے بارے میں پیشگی اندازہ کرنا آسان ہو جائے گا ،کہ پیوٹن کے آئندہ ارادے کیا ہو سکتے ہیں، خصوصا یوکرین میں افواج بھجوانے کے حالیہ فیصلے کے بعد ان کی سوچ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ ''

واضح رہے امریکی پینٹا گان کا شعبہ جو پیوٹن پر نظر رکھے ہوئے ہے ان کے علاوہ بھی پندرہ بین الاقوامی شخصیات کی تفصیلی سٹڈی کر چکا ہے۔ ان میں القاعدہ کے اسامہ بن لادن اور عراق کے سابق صدر صدام حسین بھی شامل رہے ہیں۔

اس طرح کے منصوبوں پر 2009 سے سالا نہ تین لاکھ ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ متعلقہ ماہرین کے مطابق اس مقصد کیلیے عام طور پر ویڈیو فوٹیج سے مدد لی جاتی ہے۔ جن سے زیر نظر شخصیات کے رویوں، عادات، اور انفرادی و نجی رجحانات کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ پینٹا گان کی اس شعبے کی ریسرچر برینڈا کو نورز نے کہا یہ ایک بڑا تکلیف دہ کام ہے کہ آپ اسے محفوظ کرنے کیلیے دیکھتے ہیں۔