.

موریتانیا میں اخوان المسلمون اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی

حکومت کا اسلام پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی عرب ملک موریتانیا کی حکومت اور ملک کی موثر مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون میں کشیدگی کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے اسلام پسندوں کا گھیرا تنگ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موریتانوی حکومت اور اخوان المسلمون کے درمیان تازہ کشیدگی کی بنیادی وجہ قرآن پاک کی بے حرمتی کا ایک واقعہ بنا ہے جس کے بعد اسلام پسندوں کی بڑی تعداد نے نواکشوط میں صدارتی محل کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد حکومت اور اخوان المسلمون کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

حکومت مخالف مظاہروں میں شدت اس وقت آئی جب اخوان المسلمون کے ہم خیال علماء بالخصوص الشیخ محمد الحسن ولد الددوکی جانب سے پُرتشدد مظاہروں پر اُکسانے اور سول نافرمانی کرنے کے حق میں ایک فتویٰ سامنے آیا۔ اس کے رد عمل میں حکومت کو کئی اسلام پسندوں کے مراکز بھی بند کرنا پڑے ہیں۔

باہمی الزامات کا تبادلہ


قرآن پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے حکومت اور اخوان نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا شروع کیے ہیں۔ موریتانوی وزیر اطلاعات و نشریات سیدی محمد ولد محم نے قرآن پاک کی حرمتی کے واقعے کو حکومت کے خلاف اسلام پسندوں کی ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن پاک کے بے حرمتی کا یہ شرمناک واقعہ عین اس دن پیش آیا جب صدر نے ملک میں قرآن چینل کا افتتاح کیا۔ یقیناً یہ ایک سیاسی منصوبے کا حصہ تھا جس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت مقدس کتابوں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے حالانکہ یہ سرا سر غلط ہے۔ اخوان المسلمون اور دیگر اسلام پسند اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کے لیے ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ اخوان المسلمون اپنے سیاسی مقاصد کے لیے حکومت کے خلاف بغاوت کی کوششیں بھی کرچکی ہے لیکن اُنہیں حکومت کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اخوانی ملک میں ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں تاکہ اس کے ذریعے وہ اقتدار پر قبضہ جما سکیں۔

نواکشوط میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیدی محمد ولد محم نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ قرآن پاک کی بے حرمتی عالم اسلام کو مشتعل کرنے کی ایک گہری سازش ہے۔ نواکشوط حکومت بھی ایسے افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس واقعے کے پس پردہ کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ جلد ہی ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے والے ہیں۔ ان کا اشارہ ملک کی مذہبی جماعتوں بالخصوص اخوان المسلمون کی جانب تھا۔

موریتانوی اخبارات کی جانب سے سامنے آنے والی خبروں سے معلوم ہو رہا ہے کہ نواکشوط اخوان المسلمون کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے پرغور کررہی ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کے رد عمل میں پرتشدد مظاہروں کے بعد اخوان کی طاقت میں اضافے کا امکان ہے جسے آج ہی سے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ موریتانوی پارلیمنٹ میں اس وقت اخوان کے 16 ارکان ہیں۔ ان کے علاوہ بلدیاتی کونسلوں کے 500 ممبران اور سیکڑوں میئر بھی سرگرم عمل ہیں۔

موریتانیہ کے سیای تجزیہ نگار محمد عالی ولد احمدو نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے پرتشدد مظاہرے اور حکومت کی طرف سے اسلام پسندوں کے دفاتر پر چھاپے اور پابندیوں کے نتیجے میں ملک میں گھٹن کی فضاء پائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اخوان المسلمون موریتانوی نوجوانوں کی مخصوص انداز میں ذہن سازی کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک سے غیرقانونی طریقے سے فنڈز بھی جمع کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کی بے حرمتی سے کے واقعے سے محض دو دن قبل اپوزیشن جماعتوں نے "ڈیموکریٹک الائنس" کے نام سے ایک نیا سیاسی اتحاد بنایا ہے۔ یہ سیاسی اتحاد ایک ایسے وقت میں بنا ہے جب ملک میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود تمام اسلام پسند حلقے پرتشدد خیالات کے حامل نہیں ہیں۔ علماء اور فقہاء کی ایک بڑی تعداد نے پرتشدد علماء کی جانب سے مساجد میں حکومت مخالف تقاریر کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

حکومت کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی آڑ میں احتجاجی مظاہروں سے گریز کرنے والی جماعتوں کی تحسین کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا بھی یقین دلایا ہے۔ ان میں "تواصل" پارٹی پیش پیش ہے جس نے توہین قرآن دوسری جماعتوں کے ساتھ احتجاجی کیمپ لگانے سے معذرت کرلی تھی۔

دوسری جانب "فیوچر پارٹی کے سربراہ محمد محمود ولد سیدی نے سرکردہ عالم دین الشیخ محمد الحسن ولد الددو کے دفاترکی تالہ بندی کے حکومتی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الشیخ محمد ایک جید عالم دین ہیں اور حکومت کی جانب سے ان پر عائد الزامات قطعی بے بنیاد ہیں۔

ولد سیدی کا کہنا تھا کہ فیوچر پارٹی ایک دعوتی اور رفاہی تحریک ہے جس کا ملک میں بدامنی پھیلانے سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت نے جماعت کے خلاف کارروائی کرکے دین کی تبلیغ پر پابندی لگانے کا ایک ناپسندیدہ فیصلہ دیا ہے۔ حکومت بتائے کہ کیا نوجوانوں کودین سمجھانا ملک دشمنی میں شامل ہے۔ ملحد اور بےدین لوگوں کو اپنی تمام ثقافتی سرگرمیوں کی کھلی چھٹی ہے لیکن دین کی تبلیغ پرناروا پابندیاں کیوں لگائی جار ہی ہیں۔

خیال رہے کہ موریتانیا میں اسلام پسندوں کے خلاف حکومت کی پالیسی میں تبدیلی ایک ایسے وقت میں دیکھی جا رہی ہے جب مصر اور سعودی عرب جیسے بڑے ممالک نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ کیا موریتانیا بھی اعتدال پسند سیاسی اسلام سے خوف زدہ ہے۔