.

لاپتا ملائشین طیارے کا فضا میں ٹکڑوں میں بٹ جانے کا خدشہ

ویت نام کے سمندر میں تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے ٹکڑے دیکھے جانے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائشیا کے دوران پرواز لاپتا ہوجانے والے مسافر طیارے کے بارے میں حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وہ فضا ہی میں پھٹ کر ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا جبکہ ویت نام کے حکام نے طیارے کے تباہ شدہ ملبے کے بعض حصے دیکھے جانے کی اطلاع دی ہے۔

ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کی پرواز ایم ایچ 370 کولاپتا ہوئے اتوار کی نصف شب تک اڑتالیس گھنٹے گزر چکے تھے لیکن ابھی تک اس کے بارے میں کوئی پتا نہیں چل سکا کہ یہ مسافر طیارہ کہاں غائب ہوگیا ہے۔یہ طیارہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جارہا تھا اور پرواز کے تھوڑی دیر بعد لاپتا ہوگیا تھا۔

ملائشیا کی فضائیہ کے سربراہ رضاعلی داؤد کا کہنا ہے کہ طیارہ ممکنہ طور پر اپنے معمول کے روٹ سے واپس آیا تھا اور اس کے بعد یہ راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

فاؤل پلے

اس حادثے کی تحقیقات میں شریک ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''حقیقت یہ ہے ہم اب تک کوئی ملبہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ مسافر طیارہ ممکنہ طور پر پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر فضا ہی میں ٹکڑوں میں بٹ کر بکھر گیا ہوگا''۔

اس ذریعے سے جب طیارے کے بم دھماکے میں تباہ ہونے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ''ابھی تک کسی فاؤل پلے کا کوئی اشارہ نہیں ملاہے اور طیارہ ممکنہ طور پر فنی خرابی کی بنا پر بھی تباہ ہوسکتا ہے''۔

ملبے کے ٹکڑے

واضح رہے کہ اس طیارے کے روٹ میں آنے والے سمندر میں دسیوں فوجی اور سول بحری جہاز طیارے کے ملبے کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں ابھی تک ایسا کوئِی نشان نہیں ملا جس سے وہ طیارے کے ملبے کا پتا چلا سکیں۔البتہ ویت نام کے جنوب میں اور ملائشیا کے مشرق میں سمندر میں تیل کے کچھ نشانات پائے گئے ہیں۔

ویت نام کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کو رات گئے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ بحریہ کے ایک جہاز کو سمندر میں ایک چیز ملی ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ لاپتا طیارے کا حصہ ہے لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کیا ہے۔اب دن کی روشنی میں طیارے کے اس مشتبہ ملبے کے بارے میں مزید تحقیقات کی جائے گی۔

ویت نام کی وزارت اطلاعات اور ابلاغیات نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردی بیان میں کہا ہے کہ ان کے بحری عملے کو طیارے کے دروازے کا ایک ٹکڑا اور دم کا کچھ حصہ ملا ہے۔

لیکن ملائشیا کی سول ایوی ایشن کے سربراہ اظہرالدین عبدالرحمان نے اس اطلاع کی تصدیق نہیں کی ہے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اب تک تلاشی کی مہم کے دوران طیارے کے ملبے کا کچھ پتا نہیں چلا۔جہاں تک اس کو اغوا کیے جانے کا تعلق ہے تو ہم کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کررہے ہیں''۔

جعلی پاسپورٹس

ملائشین حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی ساحلی حدود اور ویت نام کے ساحلی علاقے میں لاپتا طیارے کی تلاش کی کارروائی کو وسعت دے رہے ہیں اور جعلی شناختی دستاویزات پر سفر کرنے والے دومسافروں کے بارے میں بھی تحقیقات کررہے ہیں۔

اس دوران بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طیارے میں سوار دومسافر چوری شدہ دو پاسپورٹس پر سفر کررہے تھے اور اس کے پاس ان پاسپورٹس کا ریکارڈ موجود ہے۔

انٹرپول کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ طیارے کے تمام مسافروں کی دستاویزات کے جائزے سے مزید مشتبہ پاسپورٹس کا انکشاف ہوا ہے اور ان کی تحقیقات کی جائے گی۔تاہم ترجمان نے ان پاسپورٹس کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور نہ یہ بتایا ہے کہ یہ کس ملک یا ممالک کے تھے۔

فضائی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مسافروں کی تفصیل کے مطابق اس میں دو یورپین کے نام بھی شامل ہیں۔یہ آسٹرین کرسٹئین کوزل اور اطالوی شہری لوئگی میرالڈی ہیں لیکن ان دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں کے مطابق یہ دونوں یورپی شہری اس طیارے میں سوار نہیں تھَے اور ان دونوں کے پاسپورٹس گذشتہ دو سال کے دوران تھائی لینڈ میں چُرا لیے گئے تھے۔

انٹرپول کے سیکریٹری جنرل رونالڈ روبن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان چوری شدہ پاسپورٹس اور لاپتا طیارے کے درمیان کسی قسم کے تعلق سے متعلق کوئی قیاس آرائی قبل از وقت ہوگی لیکن یہ بہت ہی تشویشناک امر ہے کہ کوئی مسافر چوری شدہ پاسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی پرواز میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

دوسری جانب ملائشین وزیراعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹس پر سکیورٹی اور سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ملائشیا کے ٹرانسپورٹ کے وزیر ہشام الدین حسین نے بتایا ہے کہ حکام دو اور مسافروں کی شناخت کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔

ملائشین ائیر لائنز کا بوئنگ 777-200 ای آر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 12:40 پر کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بیجنگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔ملائشیا کے قصبے کوٹا بھارو سے 120 ناٹیکل میل دور مشرقی ساحلی علاقے پر پرواز کے دوران اس کا ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔اس نے اڑان بھرنے کے بعد شمال مشرق کی جانب رخ کیا تھا اور 35 ہزار فٹ کی بلندی تک گیا تھا۔اس کے بعد یہ راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔

طیارے میں چودہ ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر سوار تھے۔ان میں ایک سو باون چینی ،اڑتیس ملائشین ،سات انڈونیشی ،چھے آسٹریلوی ،پانچ بھارتی ،چار فرانسیسی اور تین امریکی شامل تھے۔