.

یمن: 42 افریقی تارکین وطن بحیرہ عرب میں ڈوب کر ہلاک

جنوبی صوبہ کی حدود میں افریقیوں کی کشتی الٹ گئی، 30 کو یمنی بحریہ نے بچا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے شیبوۃ کی حدود میں واقع بحیرہ عرب میں بیالیس غیر قانونی تارکین وطن کشتی الٹ جانے سے ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ یمنی بحریہ نے کم سے کم تیس افراد کو بچا لیا ہے۔

یمن کی وزارت دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ افریقی تارکین کی ایک کشتی بئیرعلی کے ساحلی علاقے میں الٹ گئی تھی۔ان تارکین وطن کو ایک قصبے میفع میں ایک پناہ گزین کیمپ میں لے جایا جارہا تھا۔

واضح رہے کہ افریقی ممالک اور خاص طور ایتھوپیا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تارکین وطن کو کشتیوں کے ذریعے جنوبی یمن میں منتقل کیا جاتا ہے اور وہ پھر سعودی عرب کی سرحد کا رخ کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر سعودی مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں'۔

تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2012ء کے دوران ہارن آف افریقہ کے ممالک سے قریباً چوراسی ہزار افراد غیر قانونی طور پر یمن میں داخل ہوئے تھے اور پھر وہاں سے انھوں نے روزگار کے سلسلہ میں سعودی عرب اور دوسری خلیجی ممالک کا رخ کیا تھا۔

سعودی عرب نے حال ہی میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے یمن کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر دیوارتعمیر کردی ہے اور سخت لیبر قوانین کا نفاذ کیا ہے جس کے بعد ان تارکین وطن کی تعداد کم ہوکر رہ گئی ہے اور اب غربت کا شکار افریقی تارکین وطن یمن ہی میں پناہ گزین کے طور پر رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔