.

سعودی عرب: امکانی دلہے، کسی فریق کو معلومات نہیں دیں گے

وزارت داخلہ کی شادی بیاہ سے پہلے معلومات میں تعاون کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وزارت نے امکانی سائیلین شادی کے سلسلے میں نوجوانوں کی صحت، عدالتوں سے متعلق معلومات اور سکیورٹی سے متعلق سرکاری ریکارڈ تک عام لوگوں یا خواتین اور ان کے وکلاء کو رسائی دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق ذاتی معلومات کو منظم طریقے سے محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ شہریوں کی نجی معلومات محفوظ رہ سکیں۔ اس سلسلے میں بنائے گئے قواعد یہ امر یقینی بناتے ہیں کہ کسی فرد سے متعلقہ معلومات کسی دوسرے فریق کی دسترس میں صرف مخصوص حالات میں ہی آ سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق جہاں عدالتی حکم کے تحت درخواست کی جائے، عدالت نے طلب کیا ہو تو ضروری حفاظتی انتظامات کے تحت معلومات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم صرف کوئی جج ہی زیر تفتیش معاملے سے متعلق حقائق اور معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ واضح رہے سعودی وکلاء کی معقول تعداد نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے امکانی دلہوں کے بارے معلومات دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایک وکیل ترکی الرشید کا کہنا ہے کہ کسی فرد کے بارے میں ذاتی معلومات حاصل کرنا محض جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے اور ایسی معلومات کا حصول غیر اسلامی ہوتا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''لوگوں کے ماضی کے بارے میں معلومات کو ظاہر کرنا اچھا نہیں ہے۔''

بندر البشیر نامی ایک اور وکیل نے کہا ''وزارت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے بارے میں ایسے کسی منصوبے کو سامنے لائے، نہ ہی وزارت کو حق ہے کہ لوگوں سے متعلق معلومات سامنے لائے۔'' بندر البشیر نے مزید کہا ''شادی بیاہ سے متعلق معاملات کو سماجی فریم ورک میں ہی رہنا چاہیے نہ کہ وزارت کو اس سلسلے میں مداخلت کرنی چاہیے۔''