.

ملائشیا: لاپتا طیارے کے دو ایرانی مسافروں کی تصویر جاری

دونوں ایرانی یورپی ممالک کے چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے چارروز قبل ملائشیا کے دوران پرواز لاپتا ہوجانے والے طیارے میں چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کرنے والے دو ایرانیوں کی تصویر جاری کردی ہے۔

ان دونوں میں سے ایک کی شناخت پوری نور محمد مہرداد اور دوسرے کی دلاورسید محمد رضا کے نام سے کی گئی ہے۔اول الذکر کی عمر انیس سال ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جرمنی میں سیاسی پناہ لینے کاارادہ رکھتا تھا۔دوسرے کی عمر انتیس سال بتائی گئی ہے۔

تصویر سے ظاہر ہورہا ہے کہ دونوں ایرانی ایک ہی وقت میں طیارے میں سوار ہورہے ہیں۔انٹرپول کے سیکریٹری جنرل رونالڈ کے نوبل نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ دونوں اپنے ایرانی پاسپورٹس پر ملائشیا پہنچے تھے اور پھر وہاں سے وہ چوری شدہ آسٹروی اور اطالوی دستاویزات پر اپنے اگلے سفر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

نوبل کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے بارے میں نئی معلومات سے طیارے کے لاپتا ہونے میں دہشت گردی کا امکان تو کم نظرآتا ہے لیکن اس سے چوری شدہ پاسپورٹس پر سفر کے حوالے سے تشویش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

درایں اثناء ایران نے ملائشیا کو اپنے دونوں شہریوں سے متعلق تحقیقات میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افخام نے کہا ہے کہ ایران لاپتا طیارے کے دونوں ایرانی مسافروں کے تعلق سے آنے والی رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''ہم مزید معلومات کے حصول لیے اپنے تعاون کی پیش کش کررہے ہیں اور ان دونوں ایرانیوں کے بارے میں جونہی کوئی نئی معلومات دستیاب ہوئیں،تو انھیں فراہم کردیا جائے گا''۔

ملائشیا کے ہفتے کوعلی الصباح لاپتا ہونے والے طیارے میں چوری شدہ پاسپورٹس پر سوار دو مسافروں کی اطلاع سامنے آنے کے بعد واقعے میں دہشت گردی کے خدشے کا امکان ظاہرکیا گیا تھا لیکن اب پولیس کا کہنا ہے کہ لوگ انسانی اسمگلنگ کے لیے بھی اس طرح کے فراڈ کرگزرتے ہیں۔

تلاش میں وسعت

ملائشیا اور دوسرے دس ممالک کے حکام نے طیارے کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں اور طیارہ جہاں راڈار سے غائب ہوا تھا،اس علاقے سے ایک سو ناٹیکل میل رداس میں اس کی تلاش پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

دس ممالک کے درجنوں بحری جہاز اور طیارے ملائشیا اور ویت نام کے جنوب میں سمندر میں لاپتا طیارے بوئنگ 777-200 ای آر کے ملبے کو تلاش کرر ہے ہیں۔ملائشیا کی قومی فضائی کمپنی کا یہ مسافر طیارہ کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جارہا تھا اور پرواز کے تھوڑی دیر بعد لاپتا ہو کر راڈار سکرین سے غائب ہوگیا تھا۔

یہ بدقسمت طیارہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 12:40 پر کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بیجنگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔اس میں 227 مسافر اور عملے کے بارہ ارکان سوار تھے۔پرواز کے کوئی ایک گھنٹے کے بعد ملائشیا کے قصبے کوٹا بھارو سے 120 ناٹیکل میل دور جنوبی چین کے ساحلی علاقے پر پرواز کے دوران اس کا ائیر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ ختم ہوگیا تھا۔اس وقت وہ 35 ہزار فٹ کی بلندی پر صاف موسم میں محو پرواز تھا۔طیارے کے غائب ہونے سے پہلے کے ان لمحات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

ملائشیا اور دوسرے ممالک کے حکام کاکہنا ہے کہ وہ طیارے کے اس طرح غائب ہونے پر کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کرسکتے۔لیکن ایک یورپی سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ''اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوکہ طیارہ دہشت گردی کے نتیجے میں تباہ ہوا ہے لیکن اس امر کی بھی کوئی وضاحت پیش نہیں کی جاسکتی کہ اس طیارے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے''۔