.

لاپتہ ملائیشن طیارہ: مسافروں کے فونز پر مواصلاتی رابطہ ممکن

19 مسافروں کے موبائل فونوں پر رابطہ ہوا، کوئی فون اٹینڈ نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار روز قبل لاپتہ ہونے والے ملائیشیا کے مسافر طیارے کے حوالے سے سامنے آنے والی ان خبروں نے پر اسراریت مں اضافہ کر دیا ہے کہ طیارے کے لاپتہ مسافروں کے موبائل فون ٹھیک حالت میں ہیں اور ان کے فونز کی گھنٹیاں بجتی ہیں، تاہم فون کی گھنٹی بجنے کے باوجود لاپتہ مسافر طیارے کے کسی مسافر نے فون نہیں سنا ہے۔

یہ بات ابتداء چین سے تعلق رکھنے والے 152 مسافروں میں سے ایک مسافر کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ جس کی ہمشیرہ نے اپنے بھائی سے اس کے موبائل پر رابطہ کیا تو فون کی گھنٹی بجنے کی حد تک رابطہ ممکن ہو گیا۔

مسافر کی ہمشیرہ کے مطابق اس نے پیر کے روز گیارہ بجکر چالیس منٹ پر رابطہ کیا تھا۔ '' میں نے اپنے بڑے بھائی کے فون پر دو مرتبہ رابطہ کیا اور دونوں مرتبہ گھنٹی بجی۔'' بائن لائنگوئی کے مطابق اس نے ایک مرتبہ دو بجے دوپہر پھر رابطہ کیا اور اس کے بھائی کے فون پر گھنٹی بجی۔

بائن لائنگوئی نے کہا '' اگر پولیس مدد کرے تو جہاز کی لوکیشن کا پتہ چلا سکتی ہوں، بھائی کا فون بجنے سے اس کے ابھی زندہ ہونے کا امکان ہے۔''

چین کے روزنامہ شنگھائی کی رپورٹ کے مطابق ایک اور شخص نے بھی طیارے کے ایک مسافر کے ساتھ اس کے فون پر رابطہ کیا تو اس کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ اس مسافر کے فون پر بھی تین مرتبہ مواصلاتی رابطہ ممکن ہوا ہے۔ اس مسافر کے بھائی نے اخبار نویسوں کے سامنے بھی اپنے لاپتہ بھائی کے فون پر'' بیل '' کی۔

کئی مسافروں کے اہل خانہ نے ملائیشیا ائیر لائنز کے کمرشل ڈائریکٹر کو بتایا کہ ان کے رشتہ دار مسافروں کے موبائل سے مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔ البتہ کسی بھی مسافر نے فون نہیں سنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب 19 مسافروں کے اہل خانہ نے ان کے موبائل فونوں پر کامیاب یکطرفہ مواصلاتی رابطہ کیا ہے۔

مسافروں کے موبائل فونوں پر مواصلاتی رابطے ممکن ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ طیارہ فضا میں ہے ، نہ زیر آب ہے اور نہ ہی آگ کی زد میں آیا ہے۔

واضح رہے ملائیشیا ائیر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 ہفتے کو علی الصبح 227 مسافروں کو عملے کے 12 ارکان کے ساتھ لیکر بیجنگ کیلیے روانہ ہوا تھا، تاہم 41 منٹ بعد آئیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو جانے کے بعد سے طیارہ مسلسل لا پتہ ہے۔ لاپتہ ہونے کے وقت طیارہ 35000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔

طیارے کی تلاش کیلیے ملائشیا اور چین کی ٹیمیں مصروف ہیں جبکہ دیگر ملکوں کا تعاون بھی حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن اب تک طیارے کے بارے میں کچھ معلوم نہں ہو سکا ہے کہ طیارہ کسی حادثے کا شکار ہو کر کہاں گیا ہے۔ درجنوں بحری اور ہوائی جہاز سرچ آپریشن میں شامل ہو چکے ہیں۔