.

کریمیا کی پارلیمان نے آزادی کا اعلان کردیا

یوکرینی وزیراعظم کا روس ،امریکا ،برطانیہ سے ملک کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے خودمختار علاقے کریمیا کی پارلیمان نے 16 مارچ کو ہونے والے عوامی ریفرینڈم سے قبل ''اعلان آزادی''کی منظوری دے دی ہے۔

خودمختار جمہوریہ کریمیا اور سیواستوپول کی سٹی کونسل نے منگل کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور دوسری بین الاقوامی دستاویزات کی روشنی میں اعلان آزادی کیا ہے اور اس سلسلے میں کوسوو کے اعلان آزادی کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے بارے میں 22 جولائی 2010ء کو اقوام متحدہ کے تحت عالمی عدالت انصاف نے قراردیا تھا کہ کسی ملک کے ایک حصے کی جانب سے یک طرفہ طور پر اعلان آزادی بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

مغربی ممالک پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کریمیا میں استصواب رائے کے انعقاد کو جائز تسلیم نہیں کریں گے۔کریمیا کے عوام ریفرینڈم میں اپنے جزیرہ نما علاقے کے یوکرین میں شامل رہنے یا اس کی روس میں شمولیت کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیں گے۔روسی فورسز نے آیندہ اتوار کو اس ریفرینڈم کے انعقاد سے قبل کریمیا پر اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے۔

درایں اثناء یوکرین کے عبوری صدر اولکسندر ترچینوف نے نیشنل گارڈ کی تشکیل اور رضاکاروں اور ریزروز کو ملک کی مسلح افواج میں شامل کرنے پر زوردیا ہے۔انھوں نے قومی پارلیمان سے وزارت داخلہ کے تحت دستووں کو نیشنل گارڈ میں شامل کرنےکی منظوری دینے کے لیے کہا ہے تاکہ ملک اور شہریوں کا کسی بھی اندرونی یا بیرونی جارحیت اور مجرموں کے مقابلے میں دفاع کیا جاسکے۔

یوکرینی وزیراعظم آرسینی یاتسینیوک نے مغربی ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے مقابلے میں یوکرین کا تحفظ کریں۔

انھوں نے روس ،امریکا اور یورپی یونین کے رکن ملک برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1994ء میں طے پائے معاہدے کی پاسداری کریں جس کے تحت یوکرین کو سوویت دور کے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے بدلے میں سکیورٹی کی ضمانت دی گئی تھی۔

انھوں نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم کسی سے کچھ بھی مطالبہ نہیں کر رہے ہیں لیکن ہم صرف ایک بات کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ملک کے خلاف فوجی جارحیت کی گئی ہے جنھوں نے اس جارحیت کے رونما نہ ہونے کی ضمانت دی تھی،انھیں ایک طرف تو فوجیوں کا انخلاء کروانا چاہیے اور دوسری جانب ہماری آزادی کا تحفظ کرنا چاہیے''۔

دوسری جانب یوکرین کے روس نواز بھگوڑے صدر وکٹر یانوکوویچ نے اپنے ملک کی نئی حکومت پر خانہ جنگی کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یوکرینی حکام ملک کے مشرقی علاقوں میں مقیم روسی بولنے والوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔وہ گذشتہ ماہ دارالحکومت کیف سے فرار ہوکر روس کے جنوبی شہر روستوف نا دونو چلے گئے تھے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ملک ضرور لوٹیں گے۔