.

ایران: دو جوہری بجلی گھر قائم کرنے کیلیے روس سے معاہدہ

مغربی اور امریکی پابندیوں کیخلاف امکانی معاہدوں پر تشویش ہے، وائٹ ہاوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے ایران کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ جس کے تحت روس ایران کے ایک ساحلی شہر میں توانائی کی ضروریات کیلیے کم از کم دو مزید جوہری پلانٹ لگانے گا۔ یہ بات ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے رپورٹ کی ہے۔ روس اور ایران کے درمیان اس سلسلے میں معاہدہ ایک روز پہلے متعلقہ روسی حکام کے دورہ ایران کے موقع پر عمل میں آیا ہے۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ دو نئے جوہری پلانٹ ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ یہ دونوں پاور پلانٹ روس کی طرف سے پہلے سے قائم کردہ جوہری بجلی گھر کے ساتھ تعمیر کیے جائیں گے۔ ایرانی ترجمان کے مطابق'' اس اصولی اتفاق کے بعد تکنیکی اور مالی امور پر بات چیت ہو گی۔ نتیجتا حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

واضح رہے ایران کو آج بھی مغربی ممالک کی جانب سے تیل کی برآمدات اور بنکنگ کے شعبوں میں سخت پابندیوں کا سامنا ہے، باوجود یکہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ابتدائی جوہری معاہدہ ہو چکا ہے۔

روس کیلیے ایرانی سفیر مہدی ثنائی نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ '' قریبی تجارتی شراکت دار لاکھوں بیرل ایرانی تیل کی روسی اشیاء کے بدلے فراہمی پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم روسی حکام نے اس دعوے کی ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ '' ہم اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔''

دوسری جانب وائٹ ہاوس نے روس کی طرف سے مغربی اور امریکی پابندیوں کے برعکس امکانی معاہدے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ انہی پابندیوں کی وجہ سے ایران مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا ہے۔