.

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کی سرکاری دورے پر چین آمد

چینی قیادت سے دوطرفہ تعلقات ،اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔

شہزادہ سلمان سعودی عرب کے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع بھی ہیں۔ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔وہ چینی قیادت سے دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وہ چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور وزیردفاع جنرل چانگ وان کوان سے ملاقات کریں گے اور ان سے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ریاض میں متعین چینی سفیر لی چنگ وین کا کہنا ہے کہ ''ہم اس دورے کو اپنے لیے بہت اہم اسمجھتے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو فروغ ملے گا''۔

گذشتہ ماہ سعودی ولی عہد نے پاکستان،جاپان ،بھارت اور مالدیپ کے دورے کیے تھے اور ان کی قیادتوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔بھارت کے دورے کے موقع پر انھوں نے صدر پرنب مکھر جی اور وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کی تھی اور ان سے سعودی مملکت اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں،عوام کے مفاد میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کی تھی۔2006ء میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے بعد کسی سعودی عہدے دار کا بھارت کا یہ پہلا دورہ تھا۔

شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو جاپان کے سرکاری دورے کے موقع پر ٹوکیو کی ایک نمایاں جامعہ وسیڈا یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف میں قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی تھی۔

وسیڈا یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر کاریو کماٹا نے اس سلسلہ میں ٹوکیو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سلمان کی سیاسی دانش ،علم اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں ان کے کردار کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ ''انھیں دنیا کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی اور غریبوں کی امداد کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں بہت سے تمغے اور ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دی جاچکی ہیں''۔

اس موقع پر شہزادہ سلمان نے کہا تھا کہ ''سعودی عرب مذاکرات اور اعتدال پسندی پر عمل پیرا ہے اور وہ جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔اس نے اسلامی تعلیمات پر مبنی رواداری کی پالیسی اختیار کررکھی ہے،اس کا مقصد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے اور مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے''۔