.

نیویارک: گیس دھماکا، دو عمارتیں زمین بوس، دو خواتین ہلاک

پانچ، پانچ منزلہ عمارتوں میں گیس کے اخراج سے آگ لگ گئی،20 سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے شہر نیویارک میں دو پانچ ،پانچ منزلہ رہائشی عمارتیں گیس کے اخراج کے نتیجے میں زبردست دھماکے میں تباہ ہوگئی ہیں۔نیویارک پولیس نے واقعے میں دو خواتین کی ہلاکت اور بیس سے زیادہ افراد کے زخمی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

نیویارک کے رہائشی علاقے ہارلم میں پارک روڈ پر واقع ایک عمارت میں بدھ کی صبح ممکنہ طور پر گیس بھر جانے کے نتیجے میں دھماکا ہوا اور اس کو آگ لگ گئی۔اس کے بعد اس کے ساتھ واقع دوسری عمارت کو بھی آگ گئی۔دھماکے کے بعد ان دونوں عمارت کا ملبہ سڑکوں پر دور دور تک بکھر گیا۔

نیویارک کے مئیر بل ڈی بلاسیو کا کہنا ہے کہ دھماکا گیس کے اخراج کے نتیجے میں ہوا ہے اور یہ ایک بدترین المیہ ہے کیونکہ بروقت اس کا کوئی اشارہ نہیں مل سکا تاکہ لوگوں کو بچایا جاسکتا۔انھوں نے واقعے کے بعد نیوزکانفرنس میں بتایا کہ متعدد افراد لاپتا ہیں اور ان کی تلاش میں ابھی وقت لگے گا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک یوٹیلٹی کمپنی نے ایک مکین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے دھماکے سے قبل وہاں سے گیس کی بُو سونگھنے کی اطلاع دی تھی جس پر وہاں ان کے عملے کے دو ارکان کو تصدیق کے لیے بھِیجا گیا تھا لیکن وہ دھماکے کے بعد لوٹے ہیں۔ نیویارک پولیس کے ترجمان نے کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک دھماکا تھا اور اس سے ایک عمارت تباہ ہوگئی ہے''۔

دھماکے کے نتیجے میں پہلے ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی اور اس سے شعلے بلند ہونا شروع ہوگئَے۔اس کے بعد زوردار دھماکا ہوا اورپانچ منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز ایک میل دور تک سنی گئی اور اس سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوڑ گئے اور ساتھ واقع ایک اور عمارت بھی تباہ ہوگئی ہے۔

ہارلم میں مقیم ایک عینی شاہد آئن ہئیز نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے کے قریب دھماکے کی آواز سنی تھی۔اس کے بعد اس نے ایک عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے دیکھے اور پھر دوسری عمارت کو بھی آگ لگ گئی۔ان دونوں عمارتوں کو ہر منزل میں ایک ایک اپارٹمنٹ تھا۔

دھماکے سے تباہ شدہ عمارتیں نیویارک کے میٹرو نارتھ ریل روڈ ٹریک کے نزدیک واقع ہیں اور ان کے ملبے کا کچھ حصہ ریلوے ٹریک پر بھی گرا ہے۔واقعے کے فوری بعد گرینڈ سنٹرل کی جانب آنے والی تینوں ریلوے لائنوں پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی گئی ہے اور ملازمین پٹڑیوں سے ملبہ ہٹا رہے تھے۔

نیویارک کے فائر ڈیپارٹمنٹ کا عملہ جائے وقوعہ پر تین گھنٹے کے بعد بھی آگ بجھانے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔محکمے کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ایک سو ستر ملازمین کو جائے وقوعہ پر بھیجا ہے اور دوسرے اداروں کے ملازمین اور رضا کار بھی زخمیوں کو تباہ شدہ ملبے سے نکال کر اسپتالوں میں منتقل کررہے تھے۔نیویارک کے مئیر کا کہنا ہے کہ عمارت تباہ ہونے کے بعد سے بہت سے لوگ لاپتا ہیں جس کے پیش نظر ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔