.

استنبول میں ترک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

نو ماہ قبل پولیس فائرنگ سے زخمی 15 سالہ لڑکے کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول کے تقسیم چوک میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن اور آشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔

مظاہرین گذشتہ موسم گرما میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک پندرہ سالہ لڑکے کی موت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔برکین ایلوان نامی یہ لڑکا قریباً نو ماہ تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہا ہے اور وہ منگل کو دم توڑ گیا تھا۔یہ لڑکا احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی ہونے کے بعد کومے میں تھا اور اس کا تب سے علاج جاری تھا۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے مظاہرین پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابات سے اٹھارہ روز قبل شاہراہوں پر آکر آگ لگانا غیر جمہوری طرز عمل ہے۔وہ بدھ کو جنوب مشرقی شہر مردین میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے اور 30 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے ملازمین،تنظیموں ،ٹریڈ یونینوں اور غیر سرکاری تنظیموں سے کہا کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جس کس کو بھی مسئلہ درپیش ہے،وہ اس کو 30 مارچ کو بیلٹ باکس کے ذریعے طے کر لے۔

بدھ کو ہزاروں ترک برکین کے گھر کے باہر جمع ہوئے تھے اور انھوں نے جہاں اسے گولی لگی تھی ،وہاں تک مارچ کیا۔سوگواروں نے اس کا تابوت اٹھا رکھا تھا اور وہ اس کے بعد قبرستان کی جانب تدفین کے لیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اس لڑکے کو 16 جون 2013ء کو احتجاجی مظاہرے کے دوران سر میں گیس کنستر لگا تھا اور وہ تب سے کومے میں تھا۔وہ مظاہرے میں شریک نہیں تھا بلکہ گھر سے بریڈ خریدنے کے لیے دکان جارہا تھا۔اس کی وفات کے بعد گذشتہ موسم گرما میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ یا جھڑپوں میں مارے گئے افراد کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔اس واقعے پر متعدد پولیس اہلکاروں سے تحقیقات کی گئی تھی لیکن کسی پر بھی فردجرم عاید نہیں کی گئی ہے۔

مظاہرین وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اور ان کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔بعض افراد نے حکمراں عدل اور ترقی جماعت کے ایک دفتر کی جانب پتھر پھینکے جس سے اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔

برکین کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیراعظم ایردوآن کو بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے اور انھوں نے اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے متعدد متنازعہ اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے سیکڑوں پولیس اہلکاروں اور پراسیکیوٹرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ان کے اس اقدام کا مقصد ان کے مخالفین کے نزدیک تحقیقاتی عمل کو روکنا ہے۔ایردوآن کے مخالفین ان پر غیر جمہوری ہونے اور مطلق العنان حکومت قائم کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔