.

اسلام پسند تیونسی رکن پارلیمنٹ کی طوائفوں سے متنازعہ ملاقات

قحبہ گری سماجی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے: العبیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت "تحریک النہضہ" کی ایک سرکردہ رہ نما کی طوائفوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد ملک کے سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

کسی اسلام پسند گروپ سے وابستہ خاتون رُکن پارلیمنٹ کی جانب سے طوائفوں کی حوصلہ افزائی حیران کن ہے۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ صحت عامہ کو یقینی بنانے کے لیے تیونسی حکومت کی طرف سے خواتین کو عصمت فروشی کی مشروط اجازت بھی حاصل ہے۔

لیکن حال ہی میں حکومت نے عدالت کے حکم پر ایک سال اور چار ماہ کے لیے جنوبی شہر سوسہ کے ایک قحبہ خانے پر پابندی عائد کردی تھی جس کے رد عمل میں ایک درجن سے زائد طوائفوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر تحریک النہضہ کی خاتون رکن پارلیمنٹ "محرزیہ العبیدی" کی اپنے دفتر میں طوائفوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تند وتیز تبصرے جاری ہیں۔

العبیدی نے "فیس بک" کے ذریعے سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ العبیدی نے ایک مختصر بیان میں لکھا ہے کہ "لوگوں نے مجھے سوشل میڈیا پر اس لیے گالیاں دینا شروع کر رکھی ہیں کہ میں نے ان خواتین سے ملاقات کی ہے جو غربت کے باعث جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ کیا میں ان کی شکات بھی نہ سنو؟"۔

العبیدی کا مزید کہنا ہے کہ میرے بزرگ چاہے جتنا مجھے بُرا کہیں، ان خواتین سے ملاقات پر میں ہرگز شرمندہ نہیں ہوں۔ آپ اپنے آپ سے پوچھیں کہ اگرعورتیں کسی مجبوری کے بعد اپنی شکایت لے کر آپ کے پاس آئیں تو آپ کیا کریں گے۔ میں جانتی ہوں کہ قحبہ گری ایک لعنت ہے لیکن اگر ہمارے معاشرے میں یہ ناسور موجود ہے تو ہم بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ خواتین کے حقوق پورے کرے تا کہ وہ قبحہ گری کی طرف جانے پر مجبور نہ ہوں"۔

اسلام پسند دانشور اور کالم نگار سامی ابراہیم نے بھی محرزیہ العبیدی کی طوائفوں کے ساتھ ہوئی ملاقات کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ استبدادی نظام حکومت، کرپشن، جسم فروشی اور قبیل کے تمام پیشے سماجی جرائم میں شامل ہیں لیکن شہریوں کو سماجی انصاف مہیا کرنا اور خواتین کو جسم فروشی سے روکنا بھی ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔