اسامہ کے جسم میں 100 سے زائد گولیاں پیوست ہوئیں

مسخ شدہ نعش مصلحتاً منظر عام پر نہیں لائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کی مسلح افواج کے زیر انتظام اسپیشل آپریشن یونٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن پر حملے کے وقت ان کے جسم میں 100 سے زیادہ گولیاں ماریں پیوست کی گئی تھیں۔ اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کے نتیجے میں مقتول کی میت بری طرح مسخ ہو گئی تھی اور مسخ شدہ میت مصلحت کے طور پر منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

یہ انکشاف "اسپیشل یونٹ" کی ویب سائیٹ پر جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار "ہافنگٹن پوسٹ" نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آپریشنل یونٹ کے کمانڈوز کے حملے میں اسامہ بن لادن کی میت مسخ ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مقتول کی میت دکھائی گئی اور نہ ہی اس کی تصاویر منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ امریکی فوج کے ایک باوثوق ذریعے نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کمانڈوز نے اسامہ کو نشانہ بناتے وقت اپنی مشین گن کی گولیوں کے کئی میگزین اسامہ بن لادن پر خالی کر دیے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک سو سے زائد گولیاں مقتول کے جسم میں پیوست ہو ئیں۔

خیال رہے کہ ایک ماہ قبل امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اسپیشل کمانڈوز کا ایک خفیہ مراسلہ نقل کیا تھا جس میں بتایاگیا تھا کہ امریکی سی آئی اے نے اسامہ کے قتل کے بعد اس کی مقتول کی تمام تصاویر تلف کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مراسلے میں بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کے قتل کے گیارہ روز بعد امریکی فوج کے ایک سینیئر عہدیدار نے مقتول [اسامہ] کی تمام تصاویر تلف کرنے یا انہیں "سی آئی اے" کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ اسپیشل یونٹ کے سربراہ ویلیم میک ریون اسامہ کے قتل کے گیارہ دن بعد متعلقہ حکام کو جاری کیا تھا۔ امریکی فوجی عہدیدار کی جانب سے یہ حکم اس وقت سامنے آیا تھا جب امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسامہ بن لادن کی ایک تصویر شائع کی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تصویر مبینہ طور پر اسامہ کو قتل کیے جانے کے بعد لی گئی تھی۔

خیال رہےکہ دو مئی سنہ 2011ء کی شب امریکی میرینز کے ایک چھاپہ مار دستے نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک پر اسرار کمپاؤنڈ پر کارروائی کر کے وہاں موجود اسامہ بن لادن کو قتل کر دیا تھا۔ کارروائی کے بعد امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے"سی آئی اے" کی جانب سے آپریشن کی تمام تفصیلات صیغہ راز میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ان سر بستہ رازوں میں اسامہ بن لادن کی ما بعد قتل لاش کو ٹھکانے لگانا بھی شامل ہے۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ قتل کے بعد اسامہ کی میت سمندر برد کر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں