بشار کے دفاع میں لڑنے کے لیے امریکی جنگجوؤں کی شام آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک طرف امریکی حکومت شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سفارتی اور سیاسی محاذوں پر دن رات ایک کیے ہوئے ہے اور دوسری جانب امریکا سے تعلق رکھنے والے کچھ جنگجو بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے شام کے محاذ جنگ میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر دو امریکی اُجرتی قاتلوں کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے جو شام کی سرکاری فوج یا لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پرچم تلے شامی باغیوں سے بر سر جنگ ہیں۔

ایک تازہ ویڈیو میں دو امریکیوں کو اسلحہ اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ ان دونوں کا تعلق امریکی ریاست لاس انیجلس سے ہے۔ فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے فرانسیسی ریڈیو کی رپورٹ میں بھی دو امریکی شہریوں کی شام میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ ریڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں اجرتی قاتلوں کا تعلق لاطینی امریکا سے ہے۔ ان میں سے ایک کا نام کریپر ہے جو مبینہ طور پر جی ڈبلیو 13 نامی عسکری گروپ سے وابستہ ہے جبکہ اس کا ایک دوسرا ساتھی"وینو" ویسٹ سائیڈ نامی گروپ میں شامل ہے جبکہ ان دونوں گروپوں کو "آرمینین پاور" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انٹرنیٹ پر مقبول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جن دو امریکیوں کے چرچے زبان زد عام ہیں، ان کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ وہ سرکاری فوج کی کمان میں جنگ میں شامل ہیں یا لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ ان کا تعلق عیسائی برادری سے ہے اور وہ صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی جنگجو حزب اللہ کی کمان میں لڑ رہے ہیں اور یہی تنظیم انہیں امریکا سے لانے کی بھی ذمہ دار ہے۔ ایک تصویر میں امریکی جنگجو "وینو" کو حزب اللہ کی علامت سمجھا جانے والا ایک گلو بند بھی گلے میں لٹکائے دکھایا گیا ہے جس پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی تصویر اور تنظیم کا عربی نام نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عیسائی خاندان کئی سال پیشتر آرمینیا اور وہاں سے امریکا چلے گئے تھے۔ ان دنوں شام میں بشار الاسد کے دفاع میں لڑنے والے دو امریکیوں کا تعلق بھی انہی تارکین وطن عیسائیوں میں ہے جو اپنے قبیلے کے دفاع کے لیے دوبارہ شام میں آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شام میں بر سر جنگ دونوں جنگجو امریکا میں آرمینین پاور کے نام سے سرگرم گروپ سے وابستہ ہیں۔ یہ گروپ لاس اینجلس میں کافی شہرت رکھتا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے "وینو" کا حقیقی نام "نرسس کیلاجیان" معلوم ہوا ہے اور اس نے شام کے محاذ جنگ پر لی گئی اپنی ایک تصویر بھی "فیس بک" پر پوسٹ کر رکھی ہے۔

شام کے شہر حلب میں ایک عیسائی پادری ہاروتیون سلیمان نے بھی امریکی اجرتی قاتلوں کی شام کے محاذ جنگ میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا سے آئے ہمارے بھائی بشارالاسد کی فوج کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائے گئے"کریپر" نامی نوجوان کا اصل نام"ڈیوڈ ماڈرین" ہے اور اس کا خاندان آرمینیا سے تعلق رکھتا ہے۔

شامی عیسائی پادری نے امریکی جنگجوؤں کی شام میں موجودگی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کو بدترین دہشت گردی اور اسلامی جہادیوں کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے میں مدد اپنی قوم اور قبیلے کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے امریکیوں نے بھی ہتھیار اٹھائےہیں۔

باروتیون سلیمان نے اپنے ہم مذہب جنگجوؤں کی سوشل میڈیا پر تشہیر پر حیرت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی نوجوانوں کی اکثریت بشار الاسد کی حمایت میں جنگ لڑنے کو تیار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے حلب شہر میں مقیم 35 ہزار آرمینین عیسائی واپس آرمینیا اور لبنان واپس جا چکے ہیں جبکہ حلب میں ان کی برادری اور قبیلے کے صرف بیس ہزار افراد باقی رہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں