"مشکلات نہ آئیں تو 13 اپریل تک کیمیائی ہتھیار تلف کر لیں گے"

اب تک کیمیائی ہتھیاروں کا تیسرا حصہ شام سے باہر منتقل ہو چکا ہے: لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھاروں کی تلفی کے نظام الاوقات کو از سر نو ایڈ جسٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق '' اگر کوئی مشکلات نہ پیدا ہوگئیں تو 13 اپریل تک کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی عملی طور پر مکمل ہو جائے گی۔ ''یہ بات وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے حوالے سے وزارت خارجہ کے سلامتی اور اسلحے سے متعلق شعبے کے سربراہ میخائل الیانوف نے بتائی ہے۔

میخائل الیانوف کا کہنا تھا ''شام کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی او پی سی ڈبلیو کو مارچ کے اختتام تک ہتھیاروں کی تلفی کیلیے ایک نیا منصوبہ پیش کرے گا۔ '' شام نے او پی سی ڈبلیو کو کیمیائی ہتھیاروں کی پیداواری سہولیات کے حوالے سے 12 مقامات کی فہرست پیش کی تھی، تاکہ انہیں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت 15 مارچ تک ختم کیا جا سکے۔

دو بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت شام نے اتفاق کیا تھا کہ شام کیمیائی ہتھیار بنانے کی تمام سہولیات اور 1300 میٹرک ٹن کیمیائی مواد اور گیسز سرنڈر کر دے گا۔ تاکہ رواں سال کے دوران ماہ جون کے اواخر تک تمام کیمیائی ہتھیار تلف کر دیے جائیں گے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کے روز ان کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے کہا تھا اس سلسلے میں کوششوں کو تیز کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے اب تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا تیسرا حصہ شام سے باہر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی ہتھیار 12 مختلف مقامات پر موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں