تیونس دہشت گردی، انقلاب برآمد نہیں کرے گا: مہدی جمعہ

'کسی خلیجی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس کے نو منتخب وزیر اعظم محمد مہدی جمعہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی برآمد کرے گا اور نہ ہی انقلاب اور بغاوت دوسرے ملکوں میں پھیلانے میں معاونت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی تمام عرب ممالک بالخصوص خلیجی ملکوں میں تیزی سے پھیلنے والا ناسور ہے۔ تیونس دوسرے ملکوں کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

وزیر اعظم مہدی جمعہ نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت تیونسیہ میں خلیجی ملکوں کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں بالخصوص "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کے دوران کیا۔

خیال رہے کہ مہدی جمعہ کل ہفتے سے خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ تیونسی وزیر اعظم ایک ایسے وقت میں خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جب بعض خلیجی ملکوں بالخصوص سعودی عرب نے اخوان المسلمون سمیت متعدد انتہا پسند تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تیونس میں بھی اخوان کی ہم خیال اسلام پسند "تحریک النہضہ" کی حکومت کو ختم ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے اور موجودہ حکومت کافی حد تک مذہبی اثرات سے آزاد ہے.

ایک سوال کے جواب میں تیونسی وزیر اعظم مہدی جمعہ نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک ملک ہی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ "میں خلیجی ممالک کے دورے کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار بھی بات چیت کروں گا۔"

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت تمام برادر خلیجی ملکوں کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کے قیام کی خواہاں ہے۔ میرے دورے سے خلیج اور افریقی عرب ملکوں کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

علی جمعہ کا کہنا تھا کہ تیونس اور سعودی عرب کے درمیان ماضی میں بھی خوشگوار تعلقات قائم رہے ہیں۔ تیونس سعودی عرب کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت سے بہ خوبی آگاہ ہے اور ہم باہمی تعلق مزید مضبوط بنانے کی مساعی جاری رکھیں گے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بارے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم مہدی جمعہ نے کہا کہ "ہمیں تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون سے آگے بڑھ کر تمام شعبوں میں ایک دوسروں سے تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ ہم ایک دوسرے کے تجربات سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ تیونس کسی خلیجی یا دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ خلیجی ریاستوں کے مابین موجودہ سیاسی اختلافات ان کا اندرونی معاملہ ہے،تیونس اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔ مجھے امید ہے کہ خلیجی ممالک کے دانشمند قائدین ان اختلافات کو جلد دور کرلیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے تیونس کے وزیر اعظم مہدی جمعہ نے کہا کہ ہماری تمام تر تگ و دو کا مقصد تیونس کو ایک اعتدال پسند ملک کا تشخص فراہم کرنا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ایک گروپ تیونس کو یرغمال بنا لے بلکہ تیونس میں تمام طبقات کو جگہ ملنی چاہیے۔ اس وقت تیونس دہشت گردی یا انقلاب برآمد نہیں کر رہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں مہدی جمعہ نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک نے تیونس کی مالی امداد مخصوص شرائط سے مشروط کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی عرب یا دوسرے ملک کی جانب سے تیونس پر مالی امداد کے حوالے سے شرائط عائد نہیں کی ہیں اور نہ ہی تیونس کسی بیرونی اشارے پر چل رہا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میرے دورہ خلیج کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ میں تحریک النہضہ الاسلامیہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد خلیجی ممالک سے مدد مانگنے جا رہا ہوں۔ میں تو صرف ان ممالک کو اپنا سیاسی نقطہ نظر سمجھانے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کی خاطر خلیجی ممالک کا دورہ کروں گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں