سعودی عرب میں بازار رات نو بجے بند کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت نے ملک بھر میں رات نو بجے سے تمام تجارتی مراکز اور دکانیں بند کرنے پر غور شروع کیا ہے۔ البتہ ریستوران، ڈسپنسریاں اور خوراک کے بعض مراکز جنہیں چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، بند نہیں کیے جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت محنت کو حال ہی وزارت صنعت و تجارت، وزارت برائے دیہی ترقی، محکمہ مذہبی پولیس امر بالمعروف ونہی عن المنکر، وزارت برائے پانی و بجلی اور خود وزارت لیبر کے حکام کی جانب سے سفارشات بھجوائی گئی تھیں جن میں بازاروں کو رات نو بجے سے بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

دُکانیں جلد بند کیے جانے کے متوقع سعودی فیصلے پر تاجر برادری کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے تاہم ماہرین کے خیال میں اس اقدام کے مثبت اور منفی دونوں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ البتہ اس کے مثبت اثرات زیادہ ہوں گے۔ اقتصادی ماہرین کے خیال میں دکانیں رات نو بجے بند کرنے سے صارفین کے حقوق متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی اس سے سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑتا ہے بلکہ اس اقدام سے شہریوں کی سماجی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

سعودی عرب میں اقتصادی امور کے ماہر راشد الفوزان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دکانیں جلد بند کرنے سے توانائی کی بچت، سڑکوں پر گاڑیوں کے رش میں کمی، ٹریفک کی روانی میں بہتری اور پٹرول اور ڈیزل کی بچت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ دکانیں رات کو جلد بند کرنے سے شہریوں کو دن کے اوقات میں کاروباری مراکز کھلے رکھنے کی بھی ایک ترغیب ہے کیونکہ بہت سے تاجر حضرات دن کے بجائے رات کو دکانیں کھولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وزارت لیبر کے متوقع فیصلے سے ایسے نوجوانوں کو بھی کام کا موقع ملے گا جو سہ پہر تین سے رات نو بجے تک کاروبار کرنے کے خواہاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں