علی زیدان نے اپنے خلاف عدم اعتماد کو غلط قرار دے دیا

برطرف لیبی وزیراعظم نے اپنے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے سابق وزیراعظم علی زیدان نے پارلیمان میں اپنے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی منظوری کی مذمت کردی ہے اور اس کے تحت اپنی برطرفی کو غلط قراردیا ہے۔

نیوزچینل فرانس 24 سے نشر کیے گئے ایک بیان میں علی زیدان نے اپنے خلاف عاید کردہ بدعنوانیوں کے الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے۔انھوں نے پارلیمان میں اپنے خلاف عدم اعتمادکی قرارداد کی منظوری کو غلط قراردیا ہے اور کہا کہ صرف ایک سو تیرہ ارکان نے ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ اس کے جائز ہونے کے لیے ایک سو بیس ارکان کی حمایت درکار تھی۔

علی زیدان کی برطرفی کے بعد لیبیا کے وزیردفاع عبداللہ التنی کو عبوری وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے اور پارلیمان کے سربراہ نوری علی ابو صہمین نے کہا ہے کہ جنرل پیپلز کانگریس تنی کی حمایت کرے گی اور ان کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

لیبیا کی منتخب قومی اسمبلی کے ارکان نے منگل کو ملک کے مشرقی علاقے میں باغیوں کے زیرقبضہ ایک بندرگاہ سے شمالی کوریا کے تیل سے لدے ٹینکر کے بحفاظت نکل جانے کے بعد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری دی تھی اور ارکان نے علی زیدان کو ملک میں جاری امن وامان کی تشویش ناک صورت حال کا ذمے دار قراردیا تھا۔

کانگریس میں رائے شماری سے قبل ایک رکن سعود غنور نے کہا کہ ''ملک کی صورت حال ناقابل قبول ہوچکی ہے۔حتیٰ کہ جو ارکان پارلیمان وزیراعظم کی حمایت کرتے رہے ہیں،اب ان کے پاس بھی کوئی متبادل راستہ نہیں بچا ہے''۔

علی زیدان آزاد حیثیت میں جنرل پیپلز کانگریس کے رکن منتخب ہوئے تھے اور وہ آزاد خیالوں کی حمایت سے وزیراعظم بن گئے تھے لیکن ان کے خلاف اس سے پہلے بھی عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تھی لیکن وہ کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس سے بچ گئے تھے۔

برطرف وزیراعظم پر ارکان پارلیمان یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے تھے کہ وہ سابق مطلق العنان صدر کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے اڑھائی سال بعد بھی ملک میں قیام امن میں ناکام رہے ہیں۔ان کی حکومت سابق مقتول صدر معمر قذافی کے خلاف 2011ء میں مسلح بغاوت میں پیش پیش جنگجوؤں کے خلاف قابو پانے میں ناکام رہی تھی اور یہ شتر بے مہار جنگجو گروپ ہر جگہ حکومت کی عمل داری کو چیلنج کررہے ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے خود مختار علاقے قائم کررکھے ہیں۔

لیکن منگل کو شمالی کوریا کے جھنڈے والے تیل بردار ٹینکر کا باغیوں کے زیر قبضہ ملک کی مشرقی بندرگاہ سے فرار ہوکر بین الاقوامی پانیوں میں پہنچ جانا علی زیدان کی حکومت کے لیے سب سے بڑی سُبکی کا سبب بنا تھا۔ان کی حکومت نے اس ٹینکر کو روکنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجے تھے لیکن وہ ان سے بچ کر بین الاقوامی پانیوں میں پہنچ گیا تھا۔

شمالی کوریا کا مارننگ گلوری نامی تیل بردار بحری جہاز گذشتہ ہفتے سے السدرہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز تھا اور اس پر مبینہ طور پر دولاکھ چونتیس ہزار بیرل تیل لادا گیا لتھا۔گذشتہ سال جولائی میں طرابلس حکومت کے خلاف مشرقی علاقے کی بغاوت اور باغیوں کے بندرگاہوں پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے اس طرح ازخود تیل فروخت کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں