گوانتا ناموبے سے الجزائری قیدی کی وطن واپسی

امریکا کی جائزہ کمیٹی نے قیدی کو واپس بھیجنے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے کیوبا میں واقع اپنے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتا ناموبے میں گذشتہ بارہ سال سے قید ایک الجزائری کو رہا کردیا ہے اور اس کو اس کے آبائی وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2009ء کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قائم کردہ جائزہ کمیٹی نے چوالیس سالہ احمد بیلباشا کو رہائی کے لیے کلئیر کردیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چھے محکموں اور ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل ٹاسک فورس نے اتفاق رائے سے بیلباشا کی گوانتاناموبے سے منتقلی منظوری دی تھی۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق الجزائری شہری کو افغانستان میں القاعدہ کے ایک تربیتی کیمپ میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی دستاویزات کے مطابق بیلباشا الجزائری فوج میں بھی رہا تھا۔بعد میں وہ لندن چلا گیا تھا جہاں وہ فنسبری پارک کی مسجد میں بھی جاتا رہا تھا۔2001ء کے اوائل میں وہ افغانستان چلا گیا تھا جہاں اس نے ایک جہادی کیمپ میں شرکت کی تھی اور وہاں سے اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

امریکا پر 11 ستمبر کے حملوں کے ردعمل میں اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر غیرملکی فوجوں نے چڑھائی کی تھی تو بیلباشا بھاگ کر پاکستان آگیا تھا اور اس کو یہاں سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا۔

امریکی دستاویزات کے مطابق ایک سابقہ جائزے کے وقت اس کو متوسط درجے کا سکیورٹی خطرہ قراردیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔

بیلباشا نے 2007ء میں ایک امریکی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں یہ استدعا کی تھی کہ امریکی حکام کو اسے اس کے آبائی وطن الجزائر بھیجنے سے روکا جائے کیونکہ اس نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ الجزائر میں اس کے ساتھ ناروا سلوک ہوسکتا ہے۔تاہم امریکا نے الجزائر سے یہ یقین دہانی حاصل کی ہے کہ اس کے ساتھ وہاں بہتر سلوک کیا جائے گا۔

بیلباشا کی منتقلی کے بعد اب گوانتا ناموبے میں قائم بدنام زمانہ عقوبت خانے میں دو اور الجزائری قید رہ گئے ہیں۔وہ رہائی کی صورت میں اپنے آبائی وطن جانے سے انکار کر چکے ہیں اور انھوں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ امریکا سے منتقلی پر انھیں الجزائرمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ان دونوں میں سے ایک الجزائری کے وکیل رابرٹ کرش نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان ، محکمہ خارجہ اور واشنگٹن میں الجزائری سفارت خانے سے مطالبہ کیا تھا کہ ان دونوں قیدیوں کو ان کی خواہش کے برعکس ان کے آبائی وطن میں واپس بھیجنے سے گریز کیا جائے۔

ان دونوں کے نام بلکاجیم بن سیاح اور جمل عمیزیان ہیں وہ اپنے ملک منتقلی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس کے پیش نظر ان کی امریکا سے واپس میں تاخیر ہورہی ہے۔واضح رہے کہ الجزائر واحد ملک ہے جس نے اپنے ان دونوں باشندوں کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

عمیزیان اپنی گرفتاری سےقبل آسٹریا اور کینیڈا میں رہتے رہے تھے۔انھیں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں 2007ء میں رہائی کے لیے کلئیر قراردیا گیا تھا۔انھوں نے امریکی انتظامیہ سے خود کو کینیڈا بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بن سیاح کو یورپی مسلم ریاست بوسنیا سے 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ خود کو وہیں بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کی بیوی اور بیٹیاں بوسنیا ہی میں رہ رہی ہیں۔بن سیاح کے وکیل نے امریکی محکمہ خارجہ کو لکھا ہے کہ اب ان کے موکل کی الجزائر واپسی کی صورت میں ان کی جان کے لیے خطرات ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما جلد سے جلد گوانتا نامو بے کے حراستی مرکز کو بند کرنا چاہتے ہیں اور اس وقت اس میں قید مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 154 رہ گئی ہے۔انھیں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران مختلف ممالک سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں